اسلام آباد : وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران اور امریکا کے رہنما ہفتے کے روز اسلام آباد آمد کیلئے راضی ہو چکے ہیں اور اب یہ دیرپا جنگ بندی کیلئے ایک ’کٹھن مرحلہ‘ ہے،یہ مرحلہ مذاکرات کے ذریعے الجھے ہوئے مسائل کو حل کرنے کا ہے جو ’میک اینڈ بریک‘ کے مترادف ہے
، مذاکرات کو کامیاب کرانے کی کوششیں کرینگے، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے محنت اور تدبر کے ذریعے جنگ کے شعلے بجھانے اور فریقین کو مذاکرات پر راضی کرنے میں کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا،
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان خدمات کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں ڈیزل کی قیمت میں 135روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیزل کی نئی قیمت 385روپے اور پیٹرول کی نئی قیمت 366روپے ہوگی۔ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔علاوہ ازیں جمعے کی شب برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹامر نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کرکے امن مذاکرات کی میزبانی پر انہیں مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا،
دونوں رہنماؤں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ جنگ بندی برقرار رہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے سازگار ماحول فراہم کرے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’خلیج میں اب جنگ نہیں، امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔
وہ فریق جو کل تک جنگ میں آمنے سامنے تھے اور خطہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا، آج دونوں فریق بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔ میں اس اہم پیشرفت پر برادر ملک ایران اور امریکہ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری تجویز قبول کرتے ہوئے نہ صرف عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ میری دعوت پر دونوں ملکوں کی قیادت اسلام آباد تشریف لا رہی ہے، جہاں امن کے قیام کیلئے مذاکرات ہونگے۔
انھوں نے کہا کہ یہ صرف پاکستان کیلئے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان نازک لمحات میں پاکستان کی قیادت نے انتہائی محتاط انداز میں، مگر بڑے اعتماد کے ساتھ، دونوں فریق کو عارضی جنگ بندی پر راضی کیا اور اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔
اس موقع پر میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور انکی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیرِ اعظم پاکستان نے تسلیم کیا کہ عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے مگر اب اس سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ دیرپا جنگ بندی کا ہے۔ یہ مرحلہ مذاکرات کے ذریعے الجھے ہوئے مسائل کو حل کرنے کا ہے جو ’میک اینڈ بریک‘ کے مترادف ہے۔
میں سب سے درخواست کروں گا کہ دعا کریں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں، انگنت معصوم زندگیاں بچ جائیں اور دنیا میں امن قائم ہو جائے۔‘ سنیچر کو دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں موجود ہو گی اور پاکستانی قیادت ان مذاکرات کو کامیاب کرانے کیلئے پوری خلوص کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطا بق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو جمعہ کے روزبرطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔وزیرِ اعظم اسٹارمر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کی مؤثر سفارتی کاوشوں کو بے حد سراہا۔
انہوں نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اہم یورپی اور بین الاقوامی رہنماؤں، بشمول وزیرِ اعظم اسٹارمر، کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا جس میں پاکستان کی امن کوششوں کی تائید کی گئی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ جنگ بندی برقرار رہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا ئے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں مزید فروغ دینے کیلئے مل کر کام کیا جائے گا۔
THE PUBLIC POST