پاکستان کے معروف اسٹیج اور ٹیلی وژن اداکار علی طاہر نے کہا ہے کہ معاشرے میں اکثر لوگ دین کی اصل روح کے مطابق عمل نہیں کرتے، خاص طور پر ایک سے زائد شادیوں کے معاملے میں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسلام میں چار شادیوں تک کی اجازت موجود ہے، لیکن اس پر حقیقی معنوں میں عمل کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، اور دوسری شادی عموماً مرد کے لیے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں متعدد شادیوں کی اجازت مخصوص حالات سے مشروط ہے، اور اس کے ساتھ تمام بیویوں کے درمیان مکمل انصاف اور برابری لازم قرار دی گئی ہے، جو عملی طور پر نہایت دشوار ہے۔
علی طاہر کے مطابق مردوں کو اس حوالے سے واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ انصاف کو یقینی بنائیں۔ اگر کوئی دوسری شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے تمام متعلقہ افراد کی باہمی رضامندی سے ہی یہ قدم اٹھانا چاہیے۔
پروگرام میں شریک سینئر اداکارہ روبینہ اشرف نے بھی اس موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ دوسری شادی کے معاملے پر تمام فریق خوش دلی سے متفق ہوں۔ ان کے مطابق دوسری شادی نہ تو مثالی صورتحال ہوتی ہے اور نہ ہی اکثر کامیاب ثابت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ علی طاہر معروف ادیب، ماہرِ تعلیم اور فنکار نعیم طاہر اور ریڈیو میزبان یاسمین طاہر کے صاحبزادے ہیں، اور وہ وجیہہ طاہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔
THE PUBLIC POST