بھارتی فلم اور ٹیلی وژن سے وابستہ اداکار راجیش کمار نے بالی ووڈ میں موجود طبقاتی تفریق پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی کردار ادا کرنے والے فنکار اکثر معاون اداکاروں کے ساتھ ریہرسل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کے باعث اداکاری میں مطلوبہ ہم آہنگی پیدا نہیں ہو پاتی۔
بھارتی ریاست بہار کے ضلع گیا سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ اداکار نے متعدد فلموں میں نمایاں فنکاروں کے ہمراہ بطور معاون اداکار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
حال ہی میں ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض مواقع پر مرکزی اداکار معاون کاسٹ سے گفتگو تک نہیں کرتے۔
سنہ 2025 کی کامیاب فلم سائی یارا میں انیت پڈا کے والد کا کردار ادا کرنے والے راجیش کمار کے مطابق فلم کے سیٹ پر اکثر اہم فیصلے چند مخصوص افراد تک محدود ہوتے ہیں، جن میں ہدایتکار، سنیماٹوگرافر، مرکزی اداکار اور اسکرپٹ رائٹر شامل ہوتے ہیں، جبکہ دیگر افراد محض ان کی مشاورت کا مشاہدہ کرتے رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے، بغیر کسی کا نام لیے، کہا کہ ایک معروف اداکار نے ان سے براہِ راست بات کرنے کے بجائے اپنے اسسٹنٹ کے ذریعے سوال کیا کہ وہ مکالمہ اس انداز میں کیوں ادا کر رہے ہیں، اور یہ بھی کہا کہ ریہرسل کی ضرورت نہیں بلکہ براہِ راست ٹیک لیا جائے گا۔
راجیش کمار نے اس رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس غیر مساوی نظام سے باہر نکلا جائے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ راجیش کمار کو ہندی ٹیلی وژن کے مقبول سٹکام سارا بھائی ورسز سارا بھائی کے ذریعے نمایاں شہرت حاصل ہوئی، جو 2004 سے 2006 اور بعد ازاں 2017 میں نشر کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ دیگر کامیاب ڈراموں اور ویب سیریز میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔
THE PUBLIC POST