میکسیکو میں 30 سالہ خاتون کی گمشدگی کے واقعے نے سوشل میڈیا فلٹرز کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
گریسیا گواڈیلوپے اورانتس مینڈوزا 12 اپریل کو اوکوزوکواؤٹلا ڈی ایسپینوسا سے لاپتہ ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے ان کی تلاش شروع کی۔
حکام نے خاتون کی سوشل میڈیا تصاویر کی بنیاد پر پوسٹرز جاری کیے، تاہم قریبی افراد کے مطابق ان تصاویر میں ان کی اصل شکل مختلف دکھائی دے رہی تھی، جس سے شناخت میں مشکلات پیش آئیں۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی سوال اٹھایا کہ فلٹر شدہ تصاویر کے ذریعے لاپتہ افراد کی تلاش کس حد تک مؤثر ہو سکتی ہے۔
بعد ازاں خاتون کو اوکوزوکواؤٹلا اور جیکوئپیلاس کے درمیان شاہراہ سے زندہ بازیاب کر لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلٹرز اور ایڈیٹنگ سے تبدیل شدہ تصاویر لاپتہ افراد کی تلاش میں سہولت کے بجائے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
THE PUBLIC POST