کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی (کے ایم یو) نے تعلیمی و طبی شعبے میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔
حکومتِ سندھ کے محکمۂ صحت نے یونیورسٹی کے تحت کالج آف نرسنگ کے قیام کے لیے باضابطہ طور پر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کر دیا۔
اس پیش رفت کے بعد شہر میں نرسنگ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ادارے کو ابتدائی طور پر 2 اہم تعلیمی پروگرامز شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں 4 سالہ بی ایس این (جنریک) ڈگری پروگرام اور کمیونٹی مڈوائفری (سی ایم ڈبلیو) ڈپلومہ پروگرام شامل ہیں۔
یہ پروگرامز صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ اور باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
یہ منظوری متعلقہ انسپیکشن کمیٹی کی مثبت سفارشات کے بعد دی گئی، جس میں ادارے کے انفرااسٹرکچر، تدریسی معیار اور فیکلٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کالج آف نرسنگ کے قیام کے لیے جاری کردہ این او سی صوبائی حکومت کی جانب سے انتظامی اجازت ہے، تاہم نرسنگ تعلیم کے پروگرامز کی حتمی منظوری، رجسٹریشن اور معیار کا تعین وفاقی ریگولیٹری ادارے، یعنی پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری کونسل، کے تحت ہو گا۔
اس کے لیے گزشتہ ڈیڑھ سال سے درخواست زیرِ التواء ہے، جبکہ پی ایم ڈی سی قانون کے مطابق سرکاری میڈیکل کالج جو 25 سال سے قائم ہو وہ اپنا نرسنگ اسکول ضرور کھولے۔
اس موقع پر وائس چانسلر کے ایم یو، پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے اپنے پیغام میں کہا کہ کالج آف نرسنگ کا قیام یونیورسٹی کے اس وژن کا عملی اظہار ہے جس کا مقصد صحت کے شعبے میں معیاری، تحقیق پر مبنی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے ایم یو ناصرف طبی تعلیم کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے بلکہ ایسے پیشہ ور افراد کی تیاری کو بھی ترجیح دے رہا ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر صحت کی خدمات میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
وائس چانسلر نے کہا کہ نرسنگ اور مڈوائفری کے شعبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی ایک اہم چیلنج ہے اور کے ایم یو کا یہ اقدام اس خلاء کو پُر کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جدید پروگرامز کے اجراء کے ذریعے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
منظوری کے نوٹیفکیشن کی نقول ڈائریکٹر نرسنگ سندھ، سندھ نرسز ایگزامینیشن بورڈ اور دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کردی گئی ہیں تاکہ آئندہ مراحل کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔
THE PUBLIC POST