عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور بحری نقل و حمل میں خلل کے باعث توانائی مارکیٹ بدستور دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی جس کے بعد یہ تقریباً 112 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (یو ایس آئل) کی قیمت بھی کم ہو کر 104 ڈالر فی بیرل سے کچھ نیچے آگئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں کمی آئی ہے، لیکن یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ خطے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جاری تنازع عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں۔
تجزیہ کار مزید کہتے ہیں کہ جب تک خطے میں کشیدگی ختم نہیں ہوتی اور سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہوتی، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔
THE PUBLIC POST