رپورٹ : عمران خان
کراچی: سندھ ہائی کورٹ کی کسٹمز اپیلیٹ بینچ نے کسٹمز اپریسمنٹ (ایسٹ) کراچی کے کلکٹر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں 19 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق درخواست Messer’s Pest Management Services (Pvt) Limited کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے اپنے 27 اپریل 2026 کے فیصلے کے ذریعے کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے دائر SCRA نمبر 25 برائے 2026 کو مسترد کرتے ہوئے کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
درخواست کے مطابق کسٹمز ٹربیونل نے متنازعہ سامان کی دوبارہ برآمد (re-export) کا حکم دیا تھا، جو کہ امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے پیرا 20(d) کے تحت جاری کیا گیا تھا، تاہم عدالتی فیصلے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ فیصلے پر عمل نہ کرنا عدالتی حکم عدولی کے زمرے میں آتا ہے، جس پر بینچ نے کلکٹر کسٹمز اپریسمنٹ (ایسٹ) کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
مزید برآں، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ توہین عدالت کی کارروائی میں عدالت کی معاونت کریں، جس میں ممکنہ طور پر فردِ جرم عائد کرنے کے معاملات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر سوبان تسلیم اور ایڈووکیٹ محمد راشد خان مہر عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کے معاملات پر عدلیہ سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے۔
THE PUBLIC POST