ملک بھر میں 81 لاکھ سے زائد موبائل سمز کے ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر فعال ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
نادرا نے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈز کی فوری تجدید یقینی بنائیں۔ ترجمان کے مطابق متوفی افراد کے نام پر رجسٹرڈ سمز کسی بھی وقت بند کی جا سکتی ہیں، لہٰذا شہری ایسی سمز کو اپنے نام پر منتقل کروائیں۔ مزید برآں، جون کے بعد تاخیر سے تجدید پر اضافی فیس اور جرمانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نادرا کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے سے قبل بروقت تجدید نہ کرانے کی صورت میں بینک اکاؤنٹس، موبائل سمز اور دیگر اہم سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے قواعد کے مطابق موبائل سروس کے حصول کے لیے فعال شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے، جبکہ میعاد ختم ہونے کی صورت میں سمز بلاک بھی کی جا سکتی ہیں۔
نادرا حکام کے مطابق ایسے شہری سرکاری و فلاحی پروگراموں سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ ادارے کی جانب سے ایس ایم ایس کے ذریعے شہریوں کو بروقت تجدید کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے، تاہم تاخیر کی صورت میں جرمانے کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔
مزید ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 18 سال کی عمر مکمل ہوتے ہی شہری فوری شناختی کارڈ بنوائیں تاکہ موبائل اور دیگر سہولیات کے حصول میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے نادرا مراکز، پاک آئی ڈی ایپ اور ای سہولت جیسی سہولیات دستیاب ہیں۔
THE PUBLIC POST