جیولرز شاپ پر ایف آئی اے چھاپہ اور تشدد، کیس میں اہم پیشرفت ،مقدمہ درج ،سرکل انچارج کا تبادلہ

رپورٹ : عمران خان
کراچی:صرافہ بازار میں اسمگل شدہ چاندی کی مبینہ اطلاع پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی جانب سے کیے گئے چھاپے کے دوران مبینہ تشدد اور وائرل ویڈیوز کے بعد پیدا ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ واقعے کی بازگشت کراچی سے نکل کر ملک بھر میں پھیلنے کے بعد ادارے نے بڑے پیمانے پر انتظامی اور تادیبی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ابتدائی طور پر چھاپہ مار ٹیم کے رکن سب انسپکٹر اقبال کو معطل کرنے کے بعد اب احتجاج بڑھنے پر تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی ڈپٹی ڈائریکٹر علیہ مردان کو بھی عہدے سے ہٹا کر ہیڈ کوارٹر بھی دیا گیا ہے جبکہ ان کے ڈرائیور اور پرائیوٹ شخص بلال کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں دفعہ 419 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ۔

جبکہ لاہور سے ٹرانسفر ہوکر آنے والے ٹیم کے رکن انسپکٹر ذیشان کا بھی تبادلہ کرکے انہیں ہیڈ کوارٹر میں کلوز کردیا گیا ہے تاہم پرائیویٹ شخص بلال جس نے تاجروں پر تشدد میں حصہ لیا ان کو سرکل میں غیر قانونی طور پر سرکاری امور نمٹانے کے لئے اپنے ساتھ رکھنے اور یونیفارم افسران کی ٹیم کے ساتھ چھاپے میں غیر قانونی طور پر بھیجنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی ردان کو مقدمہ میں دفعہ 109 یعنی اعانت جرم میں نامزد کرنے کے بجائے صرف عہدے سے ہٹانے پر اکتفا کیا جا رہا ہے ۔

ابتدائی طور پر چھاپہ مار ٹیم کے رکن سب انسپکٹر محمد اقبال اسماعیل کو معطل کرنے کے بعد اب احتجاج اور دباؤ میں اضافے کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی مردان کو عہدے سے ہٹا کر ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسی کارروائی کے تسلسل میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے ڈرائیور اور مبینہ طور پر چھاپے کے دوران موجود پرائیویٹ شخص بلال کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 419 کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

مزید برآں لاہور سے ٹرانسفر ہو کر آنے والے ٹیم کے رکن انسپکٹر ذیشان کو بھی تبدیل کرتے ہوئے ہیڈکوارٹر میں کلوز کر دیا گیا ہے۔ انسپکٹر ذیشان کو مبینہ طور پر ویڈیو میں نیلے شلوار قمیص میں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان شاہ کے حوالے سے یہ بھی مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ پرائیویٹ شخص بلال کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ٹیم کے ہمراہ چھاپے میں شامل کیا گیا اور اسے سرکاری امور میں غیر مجاز طور پر استعمال کیا گیا، تاہم اس پہلو پر ابھی حتمی قانونی رائے سامنے نہیں آئی۔

ادھر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بلال نامی پرائیویٹ شخص، جس پر تاجروں کے ساتھ مبینہ تشدد میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس کے خلاف کارروائی تو شروع کر دی گئی ہے تاہم اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو دفعہ 109 (اعانتِ جرم) کے تحت نامزد نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

واقعے کے بعد تاجروں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور صرافہ بازار میں احتجاجی کیفیت برقرار رہی۔ جیولر شاپ کے مالک کے مطابق چھاپے کے دوران مبینہ طور پر سی سی ٹی وی سسٹم منقطع کرنے کی کوشش کی گئی تاہم بیک اپ ریکارڈنگ محفوظ رہنے کے باعث تمام کارروائی ریکارڈ ہو گئی۔

ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اگر کسی بھی اہلکار یا فرد کا کردار ضابطے اور قانون کے خلاف ثابت ہوا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واقعے کے بعد ادارے کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے باوجود تاجروں اور شہری حلقوں میں سوالات برقرار ہیں کہ آیا یہ چھاپہ قانونی حدود میں تھا یا اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ ہے، جس کا فیصلہ جاری تحقیقات کے بعد سامنے آئے گا۔

Check Also

کراچی: پیٹرولیم اسمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 4 کمپنیوں نے لاکھوں لیٹر ہائی اسپیڈ تیل کلیئر کروا لیا

رپورٹ : عمران خانکراچی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اسمگلنگ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *