نیویارک سے کراچی آنے والے امریکی شہری زید منیر کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے زید منیر کو حیدرآباد سے تلاش کرکے بحفاظت اہلخانہ کے سپرد کر دیا، جس کے بعد ان کے مبینہ اغوا اور گمشدگی سے متعلق خدشات دم توڑ گئے۔
پولیس حکام کے مطابق زید منیر 24 مئی کو نیویارک سے کراچی پہنچا تھا اور اپنے بہنوئی کے ہمراہ شاہ فیصل کالونی میں مقیم کزن کے گھر عید منانے آیا تھا۔ تاہم 25 مئی کی رات تقریباً ایک بجے وہ گھر سے نکل گیا اور بعد ازاں لاپتہ ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگلی صبح زید منیر کے امریکی واٹس ایپ نمبر سے ایک پیغام موصول ہوا تھا جس میں اسلام آباد جانے کا ذکر کیا گیا، تاہم اس کے بعد اس کا موبائل فون مسلسل بند رہا، جس پر اہلخانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تھانہ شاہ فیصل کالونی میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
پولیس کی تحقیقات کے دوران زید منیر کو حیدرآباد سے بازیاب کر لیا گیا۔ بعد ازاں اپنے ویڈیو بیان میں زید منیر نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے حیدرآباد گیا تھا اور اس بارے میں اپنی بہن کو آگاہ بھی کر دیا تھا۔
زید منیر کے مطابق موبائل فون کا چارجر نہ ہونے کے باعث اس کا فون بند ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے اہلخانہ سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے ایک مقامی ہوٹل میں قیام کے دوران موبائل فون چارج کرنے کے بعد گھر والوں سے رابطہ کیا۔
امریکی شہری نے مزید کہا کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کے سلسلے میں حیدرآباد گیا تھا اور کسی نے اسے اغوا نہیں کیا۔ ان کے مطابق پولیس نے ہوٹل سے انہیں تحویل میں لے کر کراچی منتقل کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ زید منیر بحفاظت مل چکا ہے، تاہم واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام حقائق مکمل طور پر سامنے آ سکیں۔
THE PUBLIC POST