کراچی: ہل پارک کی پہاڑی کاٹ کر مبینہ طور پر بنائے گئے پلاٹس کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ کی جانب سے جاری کی گئی متنازع این او سی کے بعد اب ڈائریکٹر لینڈ کے نام سے منسوب ایک اور مبینہ این او سی بھی منظرِ عام پر آگئی ہے، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق میئر کراچی نے پلاٹ نمبر G-4-39 کے حوالے سے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط ارسال کرتے ہوئے مذکورہ اراضی کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ دوسری جانب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے محکمہ لینڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جمشید نعمان کو معطل کرتے ہوئے انہیں ہیومن ریسورس مینجمنٹ (ایچ آر ایم) میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق جمشید نعمان نے 30 اپریل 2026 کو ایک مشروط (Conditional) این او سی جاری کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر متعلقہ اراضی کے ایم سی کی حدود میں شامل نہیں اور کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کی حدود میں واقع ہے تو کے ایم سی کو وہاں تعمیرات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اسی این او سی کے اجرا کے الزام میں نعمان کی معطلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان کے خلاف چارج شیٹ بھی تیار کی جا رہی ہے۔ تاہم اس دوران ڈائریکٹر لینڈ عدنان زیدی کے مبینہ دستخط سے جاری ایک اور این او سی بھی سامنے آگئی ہے۔
دستاویز کے مطابق 21 اپریل 2026 کی تاریخ اور لیٹر نمبر DL/KMC/232/2026 کے تحت جاری ہونے والی این او سی میں متعلقہ پلاٹ کی اراضی سے کے ایم سی کی لاتعلقی ظاہر کی گئی ہے۔
اس حوالے سے مؤقف جاننے پر عدنان زیدی نے مذکورہ خط کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز انہیں بھی موصول ہوئی تھی، جس پر انہوں نے ڈائریکٹر جنرل پارکس عارف کھوکھر کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ این او سی اصلی نہیں ہے۔
دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل پارکس عارف کھوکھر سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔ کے ایم سی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود ڈائریکٹر لینڈ عدنان زیدی کے خلاف تاحال معطلی، تبادلے یا کسی محکمانہ کارروائی کا فیصلہ سامنے نہیں آیا، جس پر بھی مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
THE PUBLIC POST