قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاست اپنی اپنی جگہ مگر پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، اور سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ملک کو مضبوط اور مستحکم بنایا جائے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی موجود تھے۔
اجلاس کے آغاز پر اسپیکر نے اراکین کو آگاہ کیا کہ لائبریری میں ایک خصوصی بجٹ ڈیسک قائم کیا گیا ہے جہاں اراکین بجٹ سے متعلق معلومات اور معاونت حاصل کر سکتے ہیں۔
اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا تاہم بجٹ پیش ہونے کے بعد ہونے والے اس پہلے اجلاس میں حاضری انتہائی کم رہی۔
قومی اسمبلی میں کورم پورا کرنے کے لیے 84 اراکین کی موجودگی ضروری تھی، لیکن اجلاس میں صرف 52 اراکین شریک تھے۔ اس کے باوجود ایوان میں بجٹ پر بحث جاری رہی۔
اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے ملکی سیاسی تاریخ کے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوب خان کے دور میں نواب نوروز خان اور ان کے بچوں کو پھانسی دی گئی، جبکہ عطاء اللہ مینگل کے گھر پر سیکیورٹی فورسز کے چھاپے اور ان کے بیٹے کی گمشدگی کا بھی ذکر کیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے شکست خوردہ پاکستان کو دوبارہ اکٹھا کیا، مگر ان کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ نصرت بھٹو سے ملے تو وہ لرز گئے تھے اور اس ایوان کی مضبوطی کے لیے ہمیشہ ہر مظلوم کا ساتھ دیا۔
اجلاس کے دوران اسپیکر ایاز صادق نے بھی ایوان میں پیش آنے والے ایک واقعے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی نے لوگوں کے ساتھ بدتمیزی، گالم گلوچ اور تشدد کیا۔ اسپیکر نے کہا کہ اگر وہ لوگوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو انہیں یہاں بیٹھنے کا اختیار نہیں۔
اس دوران وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایوان ایک گھر کی مانند ہے جہاں پورے پاکستان سے منتخب اراکین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔
شہباز شریف نے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس تقریر کو غور سے سنا ہے، تاہم اس کا تفصیلی جواب وہ اس وقت نہیں دیں گے اور مناسب موقع پر اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مل کر پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا، اس کے لیے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے۔
دوران خطاب وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے رکن ثنا اللہ مستی خیل سے مکالمہ کیا اور کہا کہ ثنا اللہ مستی خیل سے میرا بھائیو والا تعلق ہے، جانتا ہوں ثنا اللہ مستی خیل مجبور ہے ورنہ وہ ہماری طرف آ جاتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں کے وسائل پر ان کا حق تسلیم شدہ حقیقت ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں۔ انہوں نے ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے حصے کو ایک روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے مطالبے پر اس کا حصہ سو فیصد بڑھایا گیا تھا۔
ان کے مطابق اس فیصلے میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں نے بھی خوش دلی سے اپنا حصہ دیا، جبکہ پنجاب نے 11 ارب روپے کی قربانی دی جو اب بڑھ کر سو ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے کاشتکاروں کو سولر پینلز فراہم کرنے کے لیے 75 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ گوادر سے چمن تک اہم شاہراہ کو ڈوئل کیرج وے بنانے کے منصوبے پر تقریباً 300 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم تمام صوبوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اقدامات کرنا ان کی آئینی اور قومی ذمہ داری ہے۔
THE PUBLIC POST