کراچی: شہر قائد میں 6 سالہ بچے کے اغوا اور قتل کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں ملزم نے بچے کی لاش کو تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا۔
پولیس کے مطابق لی مارکیٹ کی پنجابی گلی میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں 2 روز قبل گھر کے باہر سے اغوا ہونے والے 6 سالہ معصوم محمد ولی کی مسخ شدہ بوری بند لاش 3 منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی ہوئی ملی۔
لرزہ خیز منظر دیکھ کر پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا جبکہ والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
تفصیلات کے مطابق لی مارکیٹ پنجابی گلی سے پیر کے روز گھر سے چیز لینے کے لیے جانے والا 6 سالہ محمد ولی لاپتا ہوا۔ واقعے کا مقدمہ ایک روز بعد نیپئر تھانے میں والد عابد حسین کی مدعیت میں اغوا کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا۔
مدعی کے مطابق میں رکشہ ڈرائیور ہوں، جب دن بھر کی محنت مزدوری کرکے گھر پہنچا تو میری بیٹی ماہ نور نے بتایا کہ ولی دن ڈھائی بجے سے لاپتا ہے، دیر رات تک واپس نہیں آیا۔ بچے کو تلاش کیا اور ناکامی کی صورت میں مقدمہ درج کرایا گیا۔
مقدمہ اندراج کے بعد پولیس، اہل خانہ اور اہل محلہ نے بچے کی تلاش 2 روز تک جاری رکھی تاہم بچہ نہ مل سکا ۔ 2 روز بعد اسی محلے کےمکین لاپتا بچے کے گھر اطراف موجود تھے کہ ایک بھاری چیز کے زمین پر گرنے کی آواز آئی۔
اہل محلہ جب اس خالی پلاٹ پر پہنچے تو ایک بوری زمین پر پڑی ہوئی ملی۔ اہل علاقہ کے مطابق بوری 3 منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی گئی تھی، جسے کھولنے پر اندر سے معصوم ولی کی لاش برآمد ہوئی۔
لاش کی اطلاع فوری طور پر پولیس کی دی گئی جس پر پولیس نے لاش تحویل میں لے کر سول اسپتال منتقل کردی جبکہ اہل علاقہ نے حمزہ نامی ملزم کو اس 3 منزلہ عمارت سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کردیا ۔
اپنے لخت جگر کی موت کی خبر والدین اور اہل خانہ پر قیامت بن کو ٹوٹی۔ والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچے کی مسخ شدہ لاش بوری میں بند کرکے عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ غم سے ٹوٹی ولی کی والدہ نے کہا کہ ہمارا بچہ ہم سے چھین لیا، اب اس ملزم کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک خون کا بدلہ خون سے نہیں لیا جائے گا، ہمارا انصاف پورا نہیں ہوگا۔ والد نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ وہ رکشہ چلا کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتا ہے۔ 4 بیٹیوں کے بعد منت مرادوں سے ایک بیٹا پیدا ہوا تھا، لیکن ظالموں نے ان کی دنیا اجاڑ دی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ میرے جگر کا ٹکڑا محمد ولی 5 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور سب کا لاڈلہ تھا۔ انہوں نے سندھ حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے واقعے کا نوٹس لے کر ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم ایک عادی مجرم ہے۔ اگر یہ باہر آگیا تو یہ اور بھی بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ آج میرا بیٹا نا حق مارا گیا، کل کسی اور کا بچہ اس کا نشانہ بنے گا۔ مقتول ولی کی بہن ماہ نور اپنے چھوٹے بھائی کی لاش دیکھ کر زاروقطار روتی رہی اور سوال کرتی رہی کہ میرے چھوٹے بھائی کو کیوں مارا؟ وہ بہت پیارا تھا، اس کا کیا قصور تھا؟
اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واردات پڑوسی کے گھر میں ہوئی۔ ملزم 2 روز تک بچے کی تلاش کا ڈراما بھی کرتا رہا اور انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے نہیں دیا۔ ملزم نے جس کمرے میں بچے کی لاش رکھی، وہاں خون کے نشانات بھی موجود تھے ۔
ملزم سے جب اس کے گھر کے مخصوص کمرے میں جانے کا بولا گیا تو اس نے چابی نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمرے پر لگے ہوئے تالے کی چابی بھابی اپنے ہمراہ پنجاب لے گئی ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم مقتول بچے کا پڑوسی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بچے کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو نیپئر تھانے میں درج مقدمے 92/26 میں نامزد کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سفاک قاتل کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
علاقہ مکین بلاول کے مطابق پولیس کو ملزم کے گھر میں تالے لگے کمرے کو کھولنے کا بارہا کہا گیا لیکن ان کی جانب سے بھی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے محلےکے تمام گھروں کی تلاشی لی۔ بلاول کے مطابق ملزم حمزہ کے گھر میں مکین دیگر 2 افراد مفرور ہیں، جن کی نشاندہی پولیس کو بھی کردی گئی ہے۔
سول اسپتال کے مردہ خانے کے باہر ایک سیاسی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملزم کو جب پکڑا تو اس نے بتایا کہ مقتول بچے 6 سالہ ولی کے والد اور میرے والد کے درمیان ذاتی دشمنی تھی، جس کے باعث یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ ملزم اور مقتول محلے دار ہیں۔ سب کئی برس سے اس محلے کے مکین ہیں اور ایک دوسرے کے گھروں سے اہل خانہ سے واقف ہیں۔ لیکن محلے داروں کے بیچ ذاتی رنجش یا دشمنی خطرناک خونی شکل اختیار کر جائے گی، اس کا اندازہ نہیں تھا۔
مقامی افراد اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ متاثرہ خاندان نے کہا کہ اگر ایسے سفاک مجرموں کو عبرتناک انجام نہ پہنچایا گیا تو معصوم بچوں کی زندگیاں مزید غیر محفوظ ہو جائیں گی۔
THE PUBLIC POST