لاہور: اٹلی بھجوانے کے نام پر 12 نوجوانوں کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کے معاملے پر ایف آئی اے انسداد انسانی سمگلنگ سرکل لاہور نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایف آئی اے نے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف 3 الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں، مقدمات نمبر 672/26، 673/26 اور 674/26 درج کیے گئے ہیں، جن میں انسانی سمگلنگ، اغوا سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں جبکہ بیرون ملک متعلقہ اداروں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ایف آئی اے لاہور زون کے ترجمان کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے اور نوجوانوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اٹلی جانے کے لیے ڈنکی لگانے والے 12 نوجوان مبینہ طور پر انسانی سمگلروں کے ہاتھ لگ گئے، جن میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے بسین گاؤں سے ہے۔
اہل خانہ کے مطابق لاپتہ نوجوانوں میں تین کزن دلشاد، اسامہ اور وقاص بھی شامل ہیں، ایجنٹ عامر لاکھوں روپے لے کر نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گیا، جو ایران پہنچنے کے بعد اہل خانہ سے رابطے میں تھے، تاہم بعد ازاں ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
اہل خانہ نے بتایا کہ ایک نوجوان وقاص کے نمبر سے رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ ایجنٹ نے تین نوجوانوں کی مبینہ طور پر دل دہلا دینے والی فوٹیج بھی خاندان کو بھیجی ہے، جس میں نوجوان انتہائی بری حالت میں نظر آ رہے ہیں۔
خاندان کے مطابق فوٹیج میں نوجوانوں کے گلے میں زنجیریں باندھی گئی ہیں اور وہ رو رو کر گھر والوں سے رقم بھیجنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نوجوان جلو موڑ کے قریب بسین گاؤں کے رہائشی ہیں، عامر نامی ایجنٹ بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے، جس نے نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر ڈنکی کے ذریعے اٹلی بھجوانے کا جھانسہ دیا۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق پہلے ہر نوجوان کے لیے 10،10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا، جو ادا کر دیئے گئے، تاہم اب ہر نوجوان کے لیے مزید 6، 6 ہزار ڈالر مانگے جا رہے ہیں۔
اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر رقم نہ دی گئی تو نتائج سنگین ہوں گے۔
مغوی نوجوانوں کے اہل خانہ نے ایف آئی اے میں درخواست جمع کرا دی ہے اور حکومت سے نوجوانوں کی بازیابی کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔
THE PUBLIC POST