نیویارک:ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث امریکا میں خام تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو کر گزشتہ تقریباً 45 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ اور امریکی توانائی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کردہ تجزیاتی چارٹ کے مطابق امریکا میں اس وقت خام تیل کے صرف 43 دن کے مساوی ذخائر باقی رہ گئے ہیں جو جولائی 1983 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی یا عالمی سپلائی متاثر ہوئی تو امریکا کو اپنے تیل کے ذخائر پر مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 10 جولائی تک امریکا کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی طلب برقرار ہے جبکہ سپلائی میں مطلوبہ رفتار سے اضافہ نہیں ہو رہا۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل کب آئے گا؟ حکومت نے صارفین کے لیے نیا شیڈول جاری کر دیا
اسی طرح امریکا کے اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو (SPR) میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 18 جولائی تک اسٹریٹیجک ذخائر گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گئے جو اپریل 1983 کے بعد کم ترین سطح تصور کیے جا رہے ہیں۔ یہ ذخائر ہنگامی حالات جنگ یا عالمی سپلائی میں شدید تعطل کی صورت میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر ملا کر مجموعی خام تیل کا ذخیرہ 730.8 ملین بیرل رہ گیا ہے جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی آبنائے ہرمز میں خطرات، یمن کے حوثیوں کی دھمکیاں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال نے عالمی تیل کی منڈی کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور عالمی سپلائی چین مزید متاثر ہوئی تو امریکا کو اسٹریٹیجک ذخائر کے استعمال یا درآمدات میں اضافے جیسے اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں جبکہ اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں مہنگائی اور توانائی کی لاگت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں کامیاب ہوئیں تو عالمی منڈی کو کچھ استحکام ملنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
THE PUBLIC POST