وزیراعلیٰ سندھ کا پی پی پی یونٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیلی کا فیصلہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) یونٹ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی پی یونٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئی کمپنی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ سندھ میں زیادہ خودمختار، سرمایہ کاری پر مبنی اور مؤثر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں پی پی پی یونٹ کی ادارہ جاتی تنظیمِ نو کی منظوری پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کا پی پی پی پروگرام پاکستان کا کامیاب ترین صوبائی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل بن چکا ہے، جس کے تحت سڑکوں، پلوں، ٹرانسپورٹ، آئی ٹی، توانائی، پانی، تعلیم، صحت اور ماحولیات سمیت متعدد شعبوں میں منصوبے جاری ہیں۔

بریفنگ کے مطابق سندھ کے پی پی پی پروگرام کو عالمی سطح پر یونیسکو پی پی پی فورم اور ایسٹ انفرااسٹیکچر ایوارڈ میں پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ دی اکانومسٹ نے 2018 میں اسے ایشیا کا چھٹا بہترین پروگرام قرار دیا تھا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کا پی پی پی یونٹ دیگر صوبوں کو بھی منصوبہ بندی، قانونی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی پی پی یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے سے منصوبوں کی تشہیر، سہولت کاری اور نگرانی مزید مؤثر ہوگی، صوبائی محکموں کے پی پی پی سیلز مضبوط ہوں گے اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ ہوگا۔ مجوزہ کمپنی کو تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں زیادہ لچک حاصل ہوگی، وہ ضرورت کے مطابق ایکویٹی سرمایہ کاری اور منصوبوں کے لیے سرمایہ جمع کر سکے گی، جبکہ حکومتی فنڈنگ کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی آمدن حاصل کرنے کی مجاز ہوگی، تاہم اس کے لیے بورڈ کی منظوری لازمی ہوگی۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ پی پی پی یونٹ کو محدود مراعات کے باعث ماہر افرادی قوت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بعض محکموں میں پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور عملدرآمد یونٹس کی کمی سے منصوبوں کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات سے پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور عملدرآمد کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے انتظامی رکاوٹیں دور کرنے، ماہر افرادی قوت کو برقرار رکھنے، صوبائی محکموں کے پی پی پی یونٹس کو مزید فعال بنانے اور اہل افسران کو بااختیار بنا کر منصوبوں کی منظوری اور تکمیل کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی منصوبوں کی تیاری اور عملدرآمد میں تسلسل برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، محکموں اور عملدرآمد کرنے والے اداروں کو بروقت تکنیکی، مالیاتی اور قانونی معاونت فراہم کی جائے، احتساب پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی، جدید مالیاتی ذرائع کا استعمال بڑھے گا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور مضبوط، پائیدار، مؤثر اور جوابدہ پی پی پی ادارہ سندھ کی ترقی، خوشحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Check Also

حکومتی یقین دہانی پر پیٹرول پمپ مالکان کا ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان

پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے مطالبات حل کرنے کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *