میتھائل برومائیڈ اسکینڈل: 3 ارب 30 کروڑ کا کھیل، بھارتی مال آسٹریلیا کے نام پر درآمد، 15 سالہ مبینہ مرکزی کردار پھر بھی ایف آئی آر سے باہر

کراچی (امت تحقیقاتی ڈیسک) میتھائل برومائیڈ کی درآمد میں مبینہ جعل سازی کے ذریعے تین سال کے دوران 3 ارب 30 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کی 50 کھیپیں پاکستان پہنچانے کا بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔ ایف آئی اے کراچی نے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے افسران، نجی کمپنیوں کے مالکان اور نمائندگان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، تاہم اس کارروائی میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وزیراعظم انسپکشن ٹیم کی رپورٹ میں مبینہ مرکزی کردار قرار دیے گئے 15 سالہ اہم کردار کا نام ایف آئی آر میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے مقدمہ الزام نمبر 14/26 درج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ میتھائل برومائیڈ کی درآمد کے لیے جعلی و من گھڑت دستاویزات استعمال کرکے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن سے Import Permission Certificates حاصل کیے گئے۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 409، 420، 467، 468، 471 اور 109 بمعہ 34، انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 156(1) کے تحت درج کیا گیا۔

بھارتی مال، آسٹریلیا کا نام

تحقیقات کے مطابق درآمدی دستاویزات میں میتھائل برومائیڈ کے مینوفیکچرر اور سپلائر کے طور پر M/s Intech Organics Australia Pty. Ltd., Sydney, Australia کا نام ظاہر کیا گیا، جبکہ ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق بیشتر کھیپیں بھارت سے تیار ہوکر متحدہ عرب امارات کی جبل علی پورٹ کے راستے پاکستان پہنچیں۔

ابتدائی طور پر 2016 میں M/s IntechPharma Pvt. Ltd.، گوا، بھارت کو سپلائر ظاہر کیا گیا تھا۔ بعد میں نام تبدیل کرکے Intech Organics Ltd. کیا گیا اور پھر ایک مبینہ آسٹریلوی کمپنی کو سامنے لایا گیا، جبکہ فارمولیشن اور متعلقہ مطالعات میں بھارتی کمپنی کا نام برقرار رہا۔

ایف آئی اے کے مطابق آسٹریلیا میں متعلقہ حکام اور پاکستان قونصلیٹ جنرل سڈنی کے ذریعے تصدیق کرائی گئی تو دیے گئے پتے پر Intech Organics Australia کے وجود کی تصدیق نہ ہوسکی۔ Good Laboratory Practice سرٹیفکیٹ بھی مبینہ طور پر بھارتی ادارے کا جاری کردہ نکلا۔

630 ٹن مال، 3 ارب 30 کروڑ کا معاملہ

ایف آئی اے کے مطابق Pest Management Services (Pvt.) Ltd. (PMS) نے تقریباً 630.5 میٹرک ٹن میتھائل برومائیڈ درآمد کیا۔ 31 مارچ 2022 سے 10 مئی 2025 کے دوران 50 کھیپوں کی مجموعی مالیت تقریباً 3 ارب 30 کروڑ 90 لاکھ روپے رہی۔

معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب 2025 میں Import Permission Certificate منسوخ ہونے کے بعد فزیکل معائنے کے دوران 32 سلنڈرز پر ’’Made in India‘‘ درج پایا گیا۔

ایف آئی اے کا الزام ہے کہ بھارتی ساختہ سلنڈرز سامنے آنے کے باوجود انہیں ضبط کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ باقی کھیپیں بھی کمپنی کے فائدے میں جاری کردی گئیں۔

ایف آئی آر میں کون کون؟

مقدمے میں محکمہ Plant Protection Department کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد طارق خان، ڈائریکٹر رجسٹریشن ڈاکٹر اللہ دتہ عابد، ڈپٹی ڈائریکٹر رجسٹریشن امتیاز حسین، اینٹومولوجسٹ سید مزمل حسین، سینئر کیمسٹ عمارہ، ڈپٹی ڈائریکٹر رجسٹریشن زاکمہ خان، اینٹومولوجسٹ سویرا، اینٹومولوجسٹ حمزہ علی اور سابق ڈائریکٹر سہیل شہزاد نامزد ہیں۔

نجی شعبے سے Pest Management Services (Pvt.) Ltd. کے چیف ایگزیکٹو فرقان احمد، ڈائریکٹر/مجاز نمائندہ عُزیر احمد، ڈائریکٹر سید علی حیدر، Combine Trading کے پروپرائٹر شاہ محمد سعد ضیاء اور ARK Services کے پروپرائٹر امیر راشد خان کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔

کمیٹی نے منظوری کیسے دی؟

ایف آئی اے کے مطابق محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی Evaluation and Registration Committee نے PMS کی دستاویزات کی مبینہ مکمل جانچ پڑتال کے بغیر درآمد کی منظوری کی سفارش کی۔ کمیٹی میں سید مزمل حسین، سینئر کیمسٹ عمارہ، امتیاز حسین اور ڈاکٹر اللہ دتہ عابد شامل تھے۔

اس سفارش کے بعد اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل محمد طارق خان نے 21 مارچ 2022 کو PMS کے حق میں Import Permission Certificate جاری کرنے کی منظوری دی، جبکہ 12 اکتوبر 2023 کو Combine Trading اور ARK Services کے حق میں بھی اجازت نامے جاری کیے گئے۔

تحقیقات کے مطابق غیر ملکی مینوفیکچرر کے حقیقی وجود کی تصدیق، لازمی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور بعض دستاویزات کی مکمل جانچ نہیں کی گئی۔ ایف آئی اے نے ان اقدامات کو محض غفلت کے بجائے مبینہ طور پر منظم اور بدنیتی پر مبنی طریقہ کار قرار دیا ہے۔

15 سالہ مبینہ مرکزی کردار کہاں ہے؟

اس اسکینڈل کا سب سے بڑا سوال یہاں پیدا ہوتا ہے۔ اگست 2025 میں ہی ایف آئی اے اور نیب کو معاملے اور متعلقہ کرداروں کے خلاف تحقیقات کے لیے آگاہ کیے جانے کا دعویٰ ہے۔ بعد ازاں 5 جنوری 2026 کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 01/2026 درج ہوئی اور اس کی تفتیش اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی کے سپرد کی گئی۔

پھر 13 جنوری 2026 کو وزیراعظم انسپکشن ٹیم نے 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کرکے وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ اور ایف آئی اے کو بھجوائی۔ رپورٹ میں مبینہ طور پر گزشتہ تقریباً 15 برس سے اسکینڈل کے اہم کردار کا نام ملزمان کی فہرست میں نمایاں طور پر شامل تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر ایف آئی اے کی تازہ ایف آئی آر میں وہ نام موجود نہیں۔

اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ مقدمے میں نامزد بعض افسران دیگر گندم اور چاول اسکینڈلز کی انکوائریوں اور مقدمات میں بھی زیر تفتیش رہے ہیں، مگر اس کے باوجود مبینہ طور پر ان کے خلاف بروقت سفری پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔

انکوائری کے دوران سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل؟

ایف آئی اے کے اندر سابقہ میتھائل برومائیڈ انکوائریوں کا ریکارڈ بھی جمع کیا گیا۔ تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق ماضی میں متعدد شکایات اور انکوائریاں سامنے آنے کے باوجود معاملہ مبینہ طور پر اعلیٰ سطحی گٹھ جوڑ اور لین دین کے الزامات سے آگے نہ بڑھ سکا۔

مزید سنگین دعویٰ یہ ہے کہ رواں سال انکوائری شروع ہونے کے دوران اسکینڈل سے جڑے بعض اہم کردار ایف آئی اے کے متعلقہ افسران سے رابطے اور ملاقاتیں کرتے رہے، جبکہ اسی دوران مبینہ طور پر ان کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ پاکستان سے باہر منتقل کیا گیا۔

ایف آئی اے نے اب تحقیقات کا دائرہ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن سے آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کسٹمز، پری شپمنٹ انسپیکشن ایجنسی، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس M/s KSK Enterprises اور M/s S.D. Enterprises، JS Bank، Allied Bank اور Mashreq Bank کے متعلقہ افسران و اہلکاروں تک پھیلا دیا ہے۔

اب تحقیقات میں یہ طے کیا جائے گا کہ درآمدی کھیپوں کی تصدیق، معائنہ، ادائیگی اور کلیئرنس کے مراحل میں کس کا کیا کردار تھا۔

3 ارب 30 کروڑ کا مال، بھارتی ساخت کے 32 سلنڈر، آسٹریلیا کی مبینہ غیر موجود کمپنی، 78 صفحات کی وزیراعظم انسپکشن ٹیم کی رپورٹ اور 15 سالہ مبینہ مرکزی کردار کا ایف آئی آر سے غائب ہونا—میتھائل برومائیڈ اسکینڈل اب صرف جعلی دستاویزات کا مقدمہ نہیں رہا بلکہ یہ سوال بن چکا ہے کہ اربوں روپے کے اس کھیل کا اصل فائدہ اٹھانے والا کون تھا اور ایف آئی آر وہاں کیوں رک گئی جہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے؟

Check Also

رحمتِ عالم ﷺ کی ولادت کا دن ہے یہ دن ہمیں سچائی، محبت، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے،حناثانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) معروف فنکارہ حنا ثانی نے کہا ہے کہ 12 ربیع الاول …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *