کراچی(پبلک پوسٹ) لیاری کے علاقے کی رہائشی ایک خاتون، جو گزشتہ 6 سال سے پیٹ کے شدید درد اور تکلیف میں مبتلا تھیں، کا لیاری جنرل اسپتال میں کامیاب آپریشن کیا گیا، جس میں ان کے پیٹ سے 16 کلو وزنی ٹیومر نکال لیا گیا۔

متاثرہ خاتون نے کئی اسپتالوں کے چکر لگائے مگر پیچیدہ نوعیت کی سرجری کے باعث متعدد اسپتالوں نے آپریشن سے انکار کر دیا۔ تاہم، لیاری جنرل اسپتال کے ماہرین نے انسانیت کے جذبے کے تحت نہ صرف یہ چیلنج قبول کیا بلکہ کامیابی سے مکمل بھی کیا۔اس پیچیدہ سرجری کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر انجم رحمان نے کی، جن کی سربراہی میں ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے طویل اور نازک آپریشن کے بعد خاتون کی جان بچائی۔
ڈاکٹر پروفیسر انجم الرحمان کے مطابق مریضہ کی حالت اب مکمل طور پر خطرے سے باہر ہے۔اس موقع پر پیپلز پیرا میڈیکل ونگ لیاری اسپتال کے اراکین جن میں اقبال انصاری، آصف بلوچ، جنید شریف، ملا غنی، شعیب بلوچ، نبیل، بابو عزیز، صادق بلوچ، ازمیر بلوچ، ریاض بلوچ، خالد بلوچ، فیضان مگسی، مراد تنولی، قسمت بلوچ، حاکم علی راجپر، نادر شکیل، جمیل شاہ، داؤد، عبداللہ، راضون، اللہ بخش اور شاہنواز بلوچ شامل تھے، نے ڈاکٹر انجم رحمان اور ان کی ٹیم کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔


تمام رہنماؤں نے حکومتِ پاکستان، صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ:پروفیسر ڈاکٹر انجم رحمان کو لیاری جنرل اسپتال اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں شعبۂ صحت میں ان کی بے مثال خدمات پر ’تمغہ امتیاز‘ سے نوازا جائے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا گیا کہ لیاری جنرل اسپتال نے درجنوں بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کیں، جس سے ان کے گھروں کے چولہے جل رہے ہیں۔ ڈاکٹر انجم رحمان لیاری کے عوام کی خدمت کو عبادت سمجھتی ہیں اور اسی جذبے سے کام کر رہی ہیں۔یہ کامیاب آپریشن نہ صرف لیاری بلکہ پورے کراچی کے عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔
لیاری جنرل اسپتال اور اس کی قیادت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ عزم، مہارت اور خدمت کا جذبہ ہو تو کسی بھی مشکل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔