کراچی(پبلک پوسٹ)ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکے کے بعد زمین بوس عمارت کے ملبے سے مزید دو لاشیں نکال لی گئیں۔
ایک زخمی سول اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی جبکہ 32 زخمی سول اور جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں چار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پہلی نکلنے والی لاش بلکل ناقابل شناخت اور سوختہ تھی جس کے جسم کا عقبی حصہ بلکل ختم ہوگیا تھا، مقتول کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کی گئی۔
علاقے کے لوگوں نے ملنے والی لاش کو اس کی داڑھی سے شناخت کیا، موقع پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ سوختہ لاش 32 سالہ حمزہ کی ہے جو تاج کمپلیکس کے رہائشی تھے، مقتول کی ڈھائی سال قبل شادی ہوئی تھی اور وہ ایک ڈیڑھ سالہ بچی کے باپ تھے۔ مقتول کی الآمنہ پلازہ میں سرجیکل آلات کی دکان تھی جو وہ اسپتال میں سپلائی کرتا تھا، مقتول کی دکان میں کروڑوں روپے مالیت کا سرجیکل کا سامان تھا جو دھماکے میں تباہ ہوگیا۔
ملبے سے نکلنے والی دوسری لاش کی شناخت موقع پر موجود مقتول کے لواحقین نے 40 سالہ شہزاد علی ولد عبد المجید کے نام سے کی، مقتول شہزاد کی بھی الآمنہ پلازہ میں کراچی ہئیرنگ کے نام سے آلہ سماعت کی دکان تھی جبکہ وہ کورنگی نمبر 5 کے رہائشی اور دو بچوں کے باپ تھے۔
مقتول کے رشتے دار دلشاد نے بتایا کہ مقتول شہزاد کی تدفین کے لیے متعدد قبرستان گئے تاہم کہیں بھی جگہ نہیں ملی بڑی کوششوں اور سفارش کے بعد کورنگی ڈیڑھ نمبر چکرا گوٹھ قبرستان میں قبر ملی ہے جہاں انکی بعد نماز جمعہ تدفین کی جائے گی۔
سول اسپتال میں عیدگاہ تھانے کی پولیس چوکی کے انچارج سب انسپکٹر انور بلوچ نے بتایا کہ ایم اے جناح روڈ الآمنہ پلازہ میں آتش بازی کے اسٹور و گودام میں ہونے والے خوفناک دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے 37 سالہ نوید احمد ولد عزیز الرحمٰن جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سول اسپتال میں دم توڑ گئے۔
سول اور جناح اسپتال کے ریکارڈ کے مطابق اب زخمیوں کی مجموعی تعداد 32 ہے جس میں سے 4 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جائے دھماکا پر موجود الآمنہ پلازہ کے دکانداروں کا کہنا تھا کہ گودام میں متعدد افراد کام کرتے تھے جس میں بچے بھی شامل تھے، اس بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ بچے وہاں موجود تھے یا نکل گئے تھے، یہ کہنا مشکل ہے کہ ملبے تلے کتنے افراد دبے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق ایاز نامی شخص واقعے کے وقت موقع پر موجود تھا اور دھماکے کے بعد سے لاپتہ ہے، اس کے گھر والوں نے ایاز کے بارے میں ہر جگہ معلوم کر لیا تاہم کہیں سے کچھ پتہ نہیں چل سکا، متاثرہ عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام تاحال جاری ہے جہاں ریسکیو اداروں کے رضا کار بھی موجود ہیں۔