بھارت کیساتھ انفارمیشن شیئرنگ کا مناسب بندوبست نہیں، پی ڈی ایم اے نے مزید سیلاب کا خدشہ ظاہر کردیا

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ بھارت سے آئندہ چند روز میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے، وفاقی حکومت کی کوشش تھی لیکن بھارت کے ساتھ انفارمیشن شیئر کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جی ڈی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے کہا کہ اس وقت پورے ریجن میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، گجرات اور منڈی بہاوالدین میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں زیادہ بارش ہوئی ہے، کل ہمیں ستلج کی جانب زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھارت میں ایک بند ٹوٹا تھا، گنڈا سنگھ والا پر پانی میں کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل قصور میں 22 دیہات کو خالی کروایا گیا تھا، اس وقت وہاں 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ اسلام پر 64 ہزار کیوسک کا فلو ہے جو وہاڑی کے مقام پر بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہیڈ مرالہ پر اس وقت ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، کل چنیوٹ پر 8 لاکھ سے زائد کا ریلہ گزرا جو آج ساڑھے 6 لاکھ کیوسک تک آ چکا ہے، کل جھنگ شہر کو بچانے کے لئے بند کو توڑا گیا جس سے شہری آبادی کو بڑے نقصان سے بچایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تریموں کے مقام پر 8 لاکھ 30 ہزار کیوسک کا ریلہ پہنچنے کا امکان ہے، راوی میں 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلہ گزرا اور اس وقت ایک لاکھ 29 ہزار کیوسک تک گر چکا ہے، راوی میں اس وقت بڑا ریلہ ہیڈ بلوکی پہنچ چکا ہے جس میں ننکانہ صاحب کے نالہ ڈیک کا پانی بھی شامل ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ہیڈ محمد والا پر 7 سے 8 لاکھ کیوسک کا ریلہ ہو گا کیونکہ وہاں راوی اور دوسرے دریا کا پانی اکٹھا ہوگا، وہاں شاید کسی بند کو توڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے انتظامی سطح پر فیصلے لئے جا چکے ہیں، غیرضروری طور پر بند نہیں توڑے جائیں گے بلکہ عوامی مفاد میں فیصلے کئے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 4 ستمبر کو 8 لاکھ 75 ہزار سے 9 لاکھ 25 ہزار کیوسک کا ریلہ پنجند کے مقام پر پہنچنے کا امکان ہے، اس کے بعد یہ ریلہ 6 ستمبر کو گدو کے مقام پر پہنچے گا، اس کے پیش نظر تمام تر انتظامات اور فیصلے کئے جا چکے ہیں، ہماری ہر معاملے پر لمحہ بہ لمحہ نظر ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ریسکیو اینڈ ریلیف کی سرگرمیوں کی بات کریں تو یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن کیا گیا ہے، اس میں 800 بوٹس اور 13 ہزار ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا اور پاک آرمی نے ہماری بھرپور مدد کی، اب ریسکیو میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہیں ہے، تینوں دریاوں میں سے چناب کے 1179 موضعہ جات، 478 گاوں اور ستلج پر 391 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نظر آئے، چناب میں 9 لاکھ 66 ہزار، راوی پر 2 لاکھ 32 ہزار اور ستلج پر 3 لاکھ 13 ہزار افراد سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں، مختلف متاثرہ اضلاع میں 300 چانب، 200 راوی اور 150 ستلج پر ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔

لاہور میں 6 سے 7 ہزار افراد ریلیف کیمپس میں موجود ہیں جنہیں کھانا پینا اور رہائشی ضرویات فراہم کی جا رہی ہیں، اب تک 30 افرادجاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر حادثاتی اموات ہوئی ہیں، تمام ادارے ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔

بھارت سے آئندہ چند روز میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے، وفاقی حکومت کی کوشش تھی لیکن بھارت کے ساتھ انفارمیشن شیئر کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے، ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے بعد لوگوں کی بھرپور مدد کی جائے گی۔

Check Also

اسرائیل کی یمن پر بمباری، حوثیوں کے وزیراعظم اور متعدد وزرا جاں بحق

اسرائیل کی یمن پر ہونے والی بمباری میں حوثیوں کے وزیراعظم احمد الرہوی متعدد وزرا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *