کراچی: آل کراچی میرج ہال لان اور بنکوئٹ اونرز ایسوسی ایشن نے شہر قائد میں ہونے والی شادیوں سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں شادی ہال، لان، بینکوئٹ، بال روم اور مورک ہیں، جہاں شادیوں کے کئی کئی ماہ پہلے بکنگ ہو جاتی ہے اور شادیوں کے سیزن میں کوئی ہال یا بینکوئٹ خالی نہیں ملتا۔
شہر قائد میں ہونے والی شادیوں سے متعلق آل کراچی میرج ہال، لان اور بنکوئٹ اونرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق کراچی میں شادی بیان کی صنعت کو 2025 کے سرمائی سیزن میں تقریباً 33 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ روایتی کیلنڈر کی بجائے اب شادیاں زیادہ تر دسمبر سے جنوری کے دوران منعقد ہوتی ہیں، جس دوران ہالز کی مصروفیت 70 فیصد رہی۔
طویل عرصہ بعد اب دن کے وقت ہونے والی شادیاں بھی مقبول ہو رہی ہیں، کیونکہ ان کا کرایہ شام کے مقابلے میں تقریباً پچاس فیصد کم ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ شہر میں پروفیشنل ایونٹ منیجمنٹ کی خدمات کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایک شادی میں تقریباً 100 براہِ راست اور 250 بالواسطہ صنعتیں شامل ہوتی ہیں، جن میں کیٹرنگ، ملبوسات، پھول، ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور ایونٹ لاجسٹکس شامل ہیں۔
ان سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف متعلقہ کاروبار فعال رہتے ہیں بلکہ مقامی معیشت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ہزاروں افراد روزگار سے مستفید ہوتے ہیں۔
THE PUBLIC POST