اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ نے متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر ڈیپازٹس کی ایک سال کے لیے رول اوور میں پاکستان کی ناکامی پرتشویش کا اظہار کیا ہے اگرچہ اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف وفد کو یقین دلایا ہے کہ قلیل مدتی انتظامات مکمل ہیں اور متعلقہ حکام طویل مدتی رول اوور کے لیے امارات سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ رول اوور میں کوئی مسئلہ نہیں ہےلیکن سمجھ نہیں آتی کہ میڈیا اسے کیوں مسئلہ بنا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے بھی ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا۔
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن بدھ کو کراچی اور اسلام آباد پہنچا جہاں ٹیم کے ایک رکن نے اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کی اور یو اے ای سے ایک سالہ رول اوور حاصل نہ کرنے پر تشویش ظاہر کی۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےمیڈیا کو بتایا کہ یو اے ای نے اپنے ڈیپازٹس واپس نہیں لیے اور طویل مدت کے لیے رول اوور پر بات چیت جاری ہے تاہم ایک سینئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے کیونکہ پاکستان کو ابھی تک یو اے ای سے تحریری یقین دہانی موصول نہیں ہوئی، حکومت نے پہلے صرف دو ماہ کا عارضی رول اوور حاصل کیا تھا اور اب نئی شرائط پر بات ہو رہی ہے، اس بدلتی ہوئی صورتحال کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری جائزے میں واضح طور پر ظاہر کرنا ہوگا۔
علاوہ ازیں آئی ایم ایف مشن اور اسٹیٹ بینک حکام کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں زرمبادلہ کے ذخائر، مانیٹری پالیسی، شرح تبادلہ کی مینجمنٹ، دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور اینٹی منی لانڈرنگ کے اقدامات سمیت بینکنگ ریگولیشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تعارفی سیشن کے دوران اسٹیٹ بینک کے گورنر اور انتظامیہ نے بتایا کہ جنوری میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا جب کہ گزشتہ سال اسی مہینے میں 393 ملین ڈالر کا خسارہ تھا۔
تاہم، رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.74 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 564 ملین ڈالر کے سرپلس کے مقابلے میں بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ یو اے ای کے کل 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں موجود ہیں ان میں سے 1، 1 ارب ڈالر کے دو ڈیپازٹس 17 اور 23 جنوری کو میچور ہوئے تھے جنہیں پہلے ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا گیا جس کی مدت اب 16 اور 23 فروری کو ختم ہو رہی ہے، اب اسے عارضی طور پر 16 اور 23 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے، تیسری قسط کی واپسی بھی اس کی مقررہ تاریخ کے قریب متوقع ہے، پاکستان کو ان ڈیپازٹس پر 6.5 فیصد سے زائد سود ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
THE PUBLIC POST