مریضوں کو اسٹروک سے بچانےکیلیے نئی تکنیک وضع

سائنس دانوں نے ایک نئی تکنیک دریافت کی ہے جس کے ذریعے فالج کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

دل کے اوپری حصے میں بائیں جانب ایک پاؤچ لگا ہوتا ہے جس کو ‘لیفٹ ایٹریل اپینڈج’ کہتے ہیں۔ جب دل بے ترتیب دھڑک رہا ہوتا ہت تو خون معمول کے مطابق بہنے کے بجائے اس پاؤچ میں جمع ہو کر ٹھہر جاتا ہے اور خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں۔

اگر ان میں سے ایک بھی یہاں سے نکل جائے تو وہ دماغ تک جا کر خون کے بہاؤ کو بلاک کر سکتا ہے اور اسٹروک کا سبب بن سکتا ہے۔

محققین حال ہی میں ایک نئی تکنیک سامنے لائے ہیں جس میں دل میں مقناطیسی گائیڈڈ لیکوئڈ دل میں داخل کیا جاتا ہے جو پاؤچ کو اندر سے مضبوطی سے سِیل کر دیتا ہے۔

اس تکنیک (جو ابھی تک صرف جانوروں پر آزمائی گئی ہے) کی ابتدائی آزمائش میں معلوم ہوا ہے کہ یہ طریقہ ایک دن ایٹریل فِبریلیشن میں مبتلا لوگوں میں اسٹروک کے خطرات کو کم کر سکے گا۔

اس وقت اس مرض میں علاج مؤثر تو ہیں لیکن ان میں کچھ نقائص ہیں۔ موجودہ وقت میں زیادہ تر مریضوں کو خون پتلا کرنے کی ادویات دی جاتی ہے۔ یہ ادویات خون کے لوتھڑا بننے کی صلاحیت اور اسٹروک کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔

لیکن ان ادویات کا بڑا نقصان خون کا بہنا ہے جو پیچیدہ کیفیات میں مبتلا افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

Check Also

ماں کی قسم کھا کر کہتی ہوں میں نے کوئی پلاسٹک سرجری نہیں کروائی، علیزے شاہ

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی اداکارہ علیزے شاہ نے سوشل میڈیا پر پلاسٹک سرجری کروانے سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *