ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے 30 اپریل 2025ء کو بریفنگ کے دوران پہلگام فالس فلیگ سے پردہ اٹھایا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلگام فالس فلیگ کے حوالے سے جو سوالات اور خدشات بھارت کے سامنے رکھے ان کا جواب ایک سال بعد بھی نہیں مل سکا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے کے حقائق پر جائیں گے، الزامات پر نہیں، اگر الزام یہ ہے کہ یہ واقعہ پاکستانی سرزمین سے نام نہاد دہشت گردوں نے کیا تو یہ مدنظر رکھا جائے کہ پہلگام کسی بھی پاکستانی قصبے سے 200 کلو میٹر سے زیادہ دور ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ایسا ہموار علاقہ نہیں جو سفر کے لیے آسان ہو اور نہ ہی یہاں ایسی سڑکیں ہیں جو ہر موسم میں کھلی رہ سکیں، جائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن تک پہنچنے میں کم از کم آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایف آئی آر کے مطابق 10 منٹ میں پولیس کا پہنچنا اور واپس آ کر رپورٹ درج کرنا سوالیہ نشان ہے، جس سے تیاری کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ بھارتی انٹیلی جنس کو واقعے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، لیکن واقعے کے فوراً بعد 10 منٹ میں یہ دعویٰ سامنے آگیا کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ ایک بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی مذہب کی بنیاد پر ہوئی اور مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا لیکن پہلگام کا واقعہ بھارتی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے پیش آیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ واقعے کے کچھ ہی دیر بعد یہ بھی کہا جانے لگا کہ دہشت گرد مسلمان تھے جنہوں نے سیاحوں کو قتل کیا لیکن دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، نہ مسلمان، نہ عیسائی اور نہ ہندو دہشت گرد ہوتا ہے، یہ کہنا درست نہیں کہ صرف ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ پر صرف ہم نہیں بلکہ بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، واقعے کے فوراً بعد بھارت کے مخصوص سوشل میڈیا ہینڈلز نے خبر بریک کرنا شروع کر دی اور بھارتی ایجنسیوں سے منسلک ہینڈلز نے محض 5 منٹ میں ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ پہلگام فالس فلیگ کے بعد بغیر کسی ثبوت پاکستان پر پراکسیز کے ذریعے حملے کا الزام لگایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے پسِ پردہ حقائق میڈیا کے سامنے رکھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ حقائق سامنے رکھے اور بھارتی فالس فلیگ کے ڈرامے کو بے نقاب کیا۔
THE PUBLIC POST