امریکا کی سابق نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے مکمل ہتھیار ڈالنے کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے اور ایسا ممکن نہیں۔
بلومبرگ ویک اینڈ شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاری مذاکرات میں اگر ٹرمپ ایران سے مکمل سرنڈر چاہتے ہیں تو یہ مطالبہ کبھی پورا نہیں ہوگا۔
وینڈی شرمین، جو 2015 کے ایران جوہری معاہدے کی ٹیم کا حصہ رہ چکی ہیں، نے کہا کہ تاریخی طور پر ایران دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کرتا آیا ہے، خصوصاً 1979 کے انقلاب کے بعد یہ رجحان مزید مضبوط ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران یورینیم افزودگی کے حق سے کبھی مکمل دستبردار نہیں ہوگا، البتہ وقتی طور پر اس میں نرمی یا معطلی ممکن ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے اتحادی گروہوں اور میزائل پروگرام کو بھی مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا، اگرچہ محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔
سابق نائب وزیر خارجہ کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی وقتی اور سودے بازی پر مبنی ہے، جس میں واضح اور جامع حکمت عملی کا فقدان ہے، اسی لیے اس معاملے میں کامیابی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی پالیسیوں کے باعث عالمی اتحاد کمزور ہوئے ہیں اور امریکا کی عالمی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔
THE PUBLIC POST