اسلام آباد: پاکستان اور چین کی کمپنیوں نے مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے 7ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر دیئے ہیں جبکہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے چین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں زراعت، آئی ٹی، خصوصی اقتصادی زونز اورکانکنی و معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو قرضے اور امداد نہیں مہارت اور سرمایہ کاری چاہئے،دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے،
کراچی کے خصوصی اقتصادی زون میں سرمایہ کاروں کو پر کشش سہولیات فراہم کی جائیں گی، جدید زرعی طریقوں اور مشینی کاشتکاری سے چین کو 10 ارب ڈالر تک کی زرعی مصنوعات برآمد کر سکتے ہیں،پاکستان میں معدنیات کے بڑے ذخائر ہیں، صدر شی جن پنگ نے چین کو عالمی معیار کی معاشی اور فوجی طاقت بنا دیا ہے، پاکستان جلد خطے میں ترقی کے سفر میں چین کا ہم قدم ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان چائنا بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
بعدازاں وزیراعظم نے ہانگژو میں مختلف اہم چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتیں کیں اور پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو چین کے شہر ہانگژو میں انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم اور زراعت کے شعبوں کے حوالے سے منعقدہ پاکستان چائنا بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ژی جیانگ صوبے کےگورنر لیوجی، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ،وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک،وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری،پاکستان اور چین کی ممتاز کمپنیوں کے نمائندوں ،سرمایہ کاروں اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل الرحمن ہاشمی نے شرکت کی۔
بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف اور زیجیانگ صوبے کےگورنر لیوجی کی موجودگی میں ہاولو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور فوجی فرٹیلائزر کے درمیان کھاد کی پیداوار سے متعلق 1.12 ارب ڈالر مالیت معاہدے جبکہ پاکستان اور چین کے علی بابا گروپ کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت ،مصنوعی ذہانت صحت عامہ، ٹیلی میڈیسن ،فن ٹیک ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے ۔
پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والی اب تک 5 بزنس ٹو بزنس کانفرنسوں میں مجموعی طور پر 20ارب ڈالر سے زائد مالیت کی 200 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان اور چین کے درمیان اپنی عظیم دوستی کا 75 سالہ جشن منا رہے ہیں اور بی ٹو بی تیسری کانفرنس جو شینزین سے شروع ہوئی، بیجنگ پہنچی اور اب یہاں ہانگژو میں منعقد ہو رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
THE PUBLIC POST