کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کلفٹن کے ساحلی علاقے کے قریب سے پھول فروخت کرنے والی کمسن بچیوں کے مبینہ اغوا کے کیس میں اعلیٰ پولیس حکام کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کراچی، متعلقہ ڈی آئی جیز، ایس ایس پی جیکب آباد سمیت دیگر حکام کو طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 14 سالہ بیبو اور 6 سالہ علینہ کو بازیاب کرا کے 8 جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
درخواست گزار کے وکیل بشریٰ عباس ایڈووکیٹ کے مطابق دونوں بچیاں غریب رکشہ ڈرائیور حیات اللہ کی بیٹیاں ہیں، جو اپنے والد کی مدد کے لیے کلفٹن کے علاقے میں پھول فروخت کرتی تھیں۔ وکیل نے بتایا کہ 12 مئی کو دونوں بچیاں گھر سے نکلیں مگر اس کے بعد سے تاحال واپس نہیں آئیں۔
وکیل کے مطابق اہلخانہ نے ہر ممکن جگہ تلاش کیا لیکن بچیوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ قربان نامی شخص جو مبینہ طور پر ڈی آئی جی عثمان غنی کا رشتہ دار ہے بچیوں کے اغوا میں ملوث ہے، جبکہ اسے ایس ایس پی جیکب آباد کی سرپرستی حاصل ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ تھانے سے رابطہ کرنے پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ دونوں بچیوں کو فوری بازیاب کرایا جائے اور کیس کی شفاف تحقیقات ڈی آئی جی عامر فاروقی یا تنویر عالم اڈھو کی نگرانی میں کرائی جائیں، درخواستگزار اور اس کے اہلخانہ کوتحفظ فراہم کیا جائے۔
THE PUBLIC POST