غیر ملکی خاتون نے لاہور میں ہولناک کرپٹو اغوا اور جنسی زیادتی کا واقعہ سنایا

لاہور: لاہور غیر ملکی خاتون کیس میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہسپانوی شہری نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ خاتون کے بیان کو جاری تحقیقات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس کی اور اس کی ساتھی کی ایک پاکستانی شہری سے ملاقات سنگاپور میں ہونے والی ایک کرپٹو کرنسی تقریب کے دوران ہوئی تھی۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان کاروباری روابط قائم ہوئے اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔

بیان میں خاتون نے دعویٰ کیا کہ پاکستان آمد کے بعد انہیں لاہور منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ایک رہائش گاہ میں ان کی مرضی کے خلاف رکھا گیا۔ خاتون کے مطابق اس دوران اس اور اس کی ساتھی پر مبینہ طور پر مالی دباؤ ڈالا گیا اور ان سے بڑی رقم حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان میں متاثرہ خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ دورانِ حراست اس کے ساتھ سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور اسے مسلسل دھمکیوں کا سامنا رہا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اسے اپنے جاننے والوں سے بڑی رقم کا مطالبہ کرنے کے لیے پیغامات بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔

بیان کے مطابق بعد میں ملزمان نے دونوں خواتین کو روانہ کرنے کا تاثر دیا، تاہم راستے میں انہیں صورتحال مشکوک محسوس ہوئی۔ خاتون کے مطابق ایک ٹریفک حادثے کے بعد دونوں خواتین گاڑی سے نکل کر سڑک پر آ گئیں اور مدد کے لیے آوازیں لگائیں، جس پر راہگیروں اور ٹریفک پولیس نے ان کی مدد کی۔ بعد ازاں پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں خواتین کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق لاہور غیر ملکی خاتون کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ مقدمے میں اغوا اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہونے والا بیان تفتیش کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

Check Also

بابراعظم دورہ ویسٹ انڈیز، انگلینڈ کیلئےکپتانی کی دوڑ میں شامل

قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے بابر اعظم بھی ٹیسٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *