پاک فوج کے خلاف بیان بازی پر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف اندراج مقدمہ کی دائر درخواست پر پنجاب کے ضلع گجرانوالہ کے ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے مولانا فضل الرحمن کو طلب کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق گجرانوالہ ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔
گجرانوالہ میں دائر ریٹ پٹیشن میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمن نے پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔
پٹیشنر منظور قادر بھنڈر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے بیان میں شہداء کا مذاق اڑایا ہے۔
گوجرانوالہ ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کو 28 جولائی کو طلب کر لیا گیا۔
دوسری جانب سیشن عدالت لاہور میں مولانا فضل الرحمان کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے ڈاریکٹر این سی سی آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے سماعت 17 اگست تک ملتوی کردی، ایڈیشنل سیشن جج ملک لطیف نے سماعت کی، درخواست گزرشہری محمد وقار کےوکیل مدثر چوہدری اور علی شان مناواں نےدلائل دیے۔
موقف اپنایا کہ شوشل میڈیا پرشہدا کیخلاف مولانا فضل الرحمان کی تقریر دیکھی ، مولانا فضل الرحمان کی تقریر سے میرے اور عوام کے جذبات مجروح ہوئے۔
مؤقف اپنایا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایک جلسہ میں شہداء کیخلاف ہرزہ سرائی کی ، مولانا فضل الرحمان نے بیان دے کر شہدا کے ورثاء کا دل دکھایا ہے، عدالت مولانا فضل الرحمان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔
THE PUBLIC POST