اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ہمیں ملکی نظام ٹھیک کرنا پڑے گا، اگر پاکستان کے کاکروچ اکٹھے ہوگئے تو ہر چیز الٹ دیں گے۔
محسن نقوی نے پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ سیاسی تقریر نہ کروں لیکن آج تھوڑی سیاسی بات کرنی پڑے گی، تقریب میں سب نے مسائل اور غم بتائے اور ساتھ اس کا حل بھی بتایا، پاکستان کے اس حالت میں جانے کے ذمہ دار یہاں بھی بیٹھے ہوئے ہیں، اس کی وجہ ہے کہ ایک چیز 70، 80 سال سے نہیں چل رہی، آپ 10 سال بعد بھی یہیں بیٹھے ہوں گے یہی مسائل ہوں گے، جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں یہ ناکام ہو چکا ہے آپ مانیں یا نہ مانیں۔
جب تک ملک کی بنیادی چیز کو جمہوریت کی روح میں رہ کر ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جمہوریت ہو، میں اس کی سب سے زیادہ حمایت کرتا ہوں، لیکن جمہوریت کے اندر بھی 3، 4 اقسام کے نظام ہیں کوئی ایک نظام نہیں ہے، ہم کہتے ہیں جو چاہے مرضی ہو جائے اسی نظام کو گھسیٹنا ہے اور چلانا ہے، چاہے ہم 14 ملین کی باہر اسے زرعی پراڈکٹ منگوائیں لیکن یہی نظام چلانا ہے، زرعی ملک ہوتے ہوئے باہر سے گندم منگوائیں لیکن یہی نظام چلانا ہے، سب نے کہا کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے، عالمی سطح پر ملک کا نام آگے بڑھا ہے، وہ شخص جس نے 20، 20 گھنٹے جاگ کر کام کیا ان کو بھی کہوں گا یہ صرف فائر فائٹنگ ہے، جب تک ملک کی بنیادی چیز کو جمہوریت کی روح میں رہ کر ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے، اس سیاسی نظام کو چلانے والے بھی اس ہال میں بیٹھے ہیں، اس سیاسی نظام کو فنڈنگ کرنے والے بھی اس ہال میں بیٹھے ہیں۔
ہم عام آدمی کو بنیادی سہولتیں نہیں دے پا رہے
انہوں نے کہا کہ کوئی الیکشن سے پہلے 50 کروڑ، کوئی 10 کروڑ اور کوئی 5 کروڑ کی فنڈنگ کرتا ہے، یہ فنڈنگ کرنے والے کسی نہ کسی طرح یا مجبوری میں اس نظام کو چلا رہے ہیں، جس وقت آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا نظام کو ٹھیک کرنا ہے یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا، اس نظام میں ہر چیز بری نہیں ہے لیکن عام آدمی کو بنیادی سہولتیں چاہیے، ہم عام آدمی کو بنیادی سہولتیں نہیں دے پا رہے۔
نظام عدل کے بارے میں محسن نقوی نے کہا کہ جسٹس سسٹم میں زبردست کام ہوا ہے لیکن آج بھی لوگ گھنٹوں کا سفر کر کے کورٹ جاتے ہیں، کیا عام آدمی کا یہ حق نہیں کہ اس کو گھر کے قریب انصاف ملے، میاں عامر کی پریزنٹیشن غور سے پڑھی، ایڈمنسٹریٹو یونٹس، صوبے یا جو نام دیں اس کو عوامی سطح تک لے جانا پڑے گا، عام آدمی چھوٹی چھوٹی چیز کیلیے دھکے کھا رہے ہیں یہ ان کو ان کے علاقے میں ملنی چاہیے۔
پاکستانی یوتھ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو دو چار ہزار روپے دے کر کیا ٹیبلٹ دے کر خوش کر لیں گے تو ایسا نہیں ہو سکتا، نوجوان صرف چاہتے ہیں نظام ٹھیک ہو روزگار مل جائے اور جائز طریقے سے ملے، نوجوان اکٹھے ہوگئے تو یہ ہر چیز کو الٹ سکتے ہیں۔
نوجوان دو چار ہزار ماہانہ ڈالر کما سکتے ہیں صرف انھیں نظام دے دیں
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان اپنی خواہش ظاہر کریں اس سے پہلے ہمیں ان کو میرٹ پر نوکریاں دینی ہیں، نوجوان دو چار ہزار ماہانہ ڈالر کما سکتے ہیں صرف انھیں نظام دے دیں، نوجوانوں کو اچھا نظام دینے کیلیے ہمیں اپنی چیزیں ٹھیک کرنی ہیں۔
ہم چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے لیکن قرض لے لیتے ہیں
تقریب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا حال یہ ہے کہ جب بجٹ بناتے ہیں تو منفی میں بناتے ہیں، وفاق کا بجٹ بناتے ہوئے ہم بات یہ کرتے ہیں آئندہ سال کتنا قرضہ لینا ہے، ہم چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے لیکن قرض لے لیتے ہیں، ہر سال ملک کا قرضہ بڑھتا جا رہا ہے چاہے جتنا مرضی کچھ بھی کر لیں۔
تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا
محسن نقوی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، نئے یونٹ صوبوں سے لے کر اپنے ملک کے مسائل حل کرنا ہوں گے، صوبوں کے نئے یونٹس نہیں بنائیں گے تو چیزیں ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔
وزیر اعظم 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں، وہ 18 گھنٹے بھی کام کر لیں گے ہم صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہیں اور کچھ نہیں۔
THE PUBLIC POST