میر رضا کی فیملی جوڈیشل کمیشن کے قیام کیخلاف سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئی

کراچی: مقتول نوجوان تاجر میر رضا کی فیملی جوڈیشل کمیشن کے قیام کیخلاف سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئی۔
میر رضا کے والد میر حسین علی، بہن علیشہ اور والدہ مریم سندھ ہائیکورٹ پہنچے ہیں جہاں وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے عدالت سے رجوع کریں گے۔

نوجوان تاجر میر رضا علی کے والد میر حسین نے سندھ حکومت کی جانب سے کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اپنے تحفظات اورعدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

میرحسین علی کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں پیر کی صبح سندھ ہائیکورٹ سےرجوع کریں گے اورعدالت سے میررضا کیس کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کی درخواست کریں گے ۔

اس سے قبل میر ر ضا علی کی بہن علیشہ نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جوڈیشنل کمیشن کے قیام کے فیصلے سے متعلق میڈیا سے معلوم ہوا جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے سے متعلق ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا آور نہ پی ہمیں ٹرم اینڈ ریفرنس بتائے گئے ہیں کہ کس بنا پر جوڈیشنل کمیشن بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو 24 اگست کو عدالت میں رپورٹ جمع کرانے تھی اب تک اگر رپورٹ سامنے نہیں آئی تو کس بنیاد پر اس فیصلے کو لیاجا رہا ہے کیا انہیں پہلے سے علم ہے کہ رپورٹ میں کیا ہے؟ کیا رپورٹ سے متفق یا غیر متفق ہیں ؟جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے کا اصل گراونڈ کیا ہے ہمیں نہیں بتایا گیا ہے۔

میر رضا کی بہن نے کہا کہ ہم جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں، ہم شروع سے کہہ رہے ہیں ہمیں جوڈیشل کمیشن پر اعتراض ہے۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ہمارا واحد مطالبہ جے آئی ٹی کی تشکیل ہے تاکہ کیس کی تحقیقات آگے بڑھ سکے۔

واضح رہے کہ کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کا معاملہ گزشتہ کئی ہفتوں سے زیر بحث ہے۔ واقعے کی ابتدائی تحقیقات اور میڈیکل رپورٹس سے متعلق مختلف سوالات سامنے آنے کے بعد میر رضا کے اہلخانہ نے موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

Check Also

21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ

دنیا بھر کے 21 سابق ٹیسٹ و بین الاقوامی کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *