بشریٰ انصاری کی بالی ووڈ فلم ’بٹوارہ 1947ء‘ پر کڑی تنقید

پاکستان کی معروف اداکارہ، میزبان، کامیڈین اور گلوکارہ بشریٰ انصاری نے بالی ووڈ کی نئی فلم ’بٹوارہ 1947ء‘ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے انتہائی ناقص قرار دے دیا۔

بشریٰ انصاری نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم دیکھنے کے بعد اس کی کہانی، اداکاری اور خاص طور پر پنجابی زبان کے استعمال پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔

اداکارہ نے کہا ہے کہ یعقوب خان کا کردار کسی بھی پنجابی اداکار کو دیا جا سکتا تھا، کیونکہ پنجاب میں بہت باصلاحیت فنکار موجود ہیں۔

انہوں نے فلم سازوں سے پنجابی زبان کو غلط انداز میں پیش نہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

بشریٰ انصاری نے فلم میں بولی جانے والی پنجابی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے فلم میں پنجابی کا تلفظ انتہائی مضحکہ خیز اور غیر فطری محسوس ہوا، جبکہ مسلم کرداروں کے آنکھوں میں سرمہ لگانے کے انداز پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا ہے۔

اداکارہ نے ماضی کی پاکستانی مزاحیہ پنجابی فلم ’مسمّت متیارے‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں پنجابی مکالمے فطری انداز میں ادا کیے گئے تھے، جبکہ ’بٹوارہ 1947ء‘ میں پنجابی زبان کا استعمال انتہائی غیر معیاری لگا۔

بشریٰ انصاری نے فلم پر مجموعی رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت کمزور اور غیر معیاری کوشش ہے۔

فلم میں سنی دیول سمیت دیگر معروف اداکار شامل ہیں، جبکہ اسے بالی ووڈ اداکار عامر خان نے پروڈیوس کیا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے بھی بشریٰ انصاری کی تنقید کی حمایت کرتے ہوئے عامر خان کی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ میں پنجابی لہجے پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیا ہے۔

Check Also

دیا مرزا کی 5 سالہ بیٹے سے متعلق تنقید پر لب کشائی

بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے اپنے 5 سالہ بیٹے اویان آزاد ریکھی سے متعلق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *