کراچی میں جاری شدید گرمی کے باعث دمے اور دیگر سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور ان کیسز میں تقریباً 20 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔
ماہر امراض تنفس ڈاکٹر جاوید کے مطابق گرم اور حبس زدہ موسم میں ہوا میں آکسیجن کی مؤثر مقدار کم محسوس ہوتی ہے، جس کے باعث سانس کے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے موسم میں نمونیا کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے، غیر ضروری طور پر دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز کیا جائے اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ گھروں میں ماحول کو بہتر اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے پودے لگائے جائیں اور ہلکے رنگ کے کپڑوں کا استعمال کیا جائے تاکہ گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
THE PUBLIC POST