بھارتی انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے کئی سرحدی علاقوں میں بھارتی اور چینی افواج میں کئی ماہ سے ٹکراؤ جاری ہے۔
گزشتہ کئی روز سے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ارونا چل پردیش کے سرحدی علاقوں میں ٹکراؤ کی خبریں زیر گردش تھیں، جس کی کسی ایک فریق کی جانب سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
ایکس پر حال ہی میں کئی بھارتی اکاؤنٹس سے ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں شتروجیت کپور کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ”اروناچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کچھ ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس میں کئی مقامات پر ٹکراؤ کا سامنا ہوا اور یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔“
انڈوتبتن بارڈر پولیس کے سربراہ نے اس صورت حال سے نمٹنے میں اپنی فورس کی ’شوریہ کمانڈو‘ ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ”حال ہی میں تشکیل دی گئی شوریہ کمانڈو فورس بہترین کام کر رہی ہے، وہاں ہمارے شوریہ کمانڈوز نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جلد ہی ہم شوریہ کمانڈوز کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دیں گے۔“
بی بی سی کے مطابق بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں جولائی سے چینی اور بھارتی افواج ایک دوسرے کے مقابل موجود ہیں۔
دی ہندو کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ “جولائی میں کسی وقت ماجا کے مقام پر بھارتی اور چینی افواج آمنے سامنے آ گئیں اور مختصر کشیدگی کے بعد دونوں جانب کے فوجی واپس چلے گئے، تاہم چند روز بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکار بڑی تعداد میں دوبارہ وہاں پہنچے اور تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر اس علاقے میں خیمے نصب کر لیے، جسے بھارت اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔”
ایکس پر کئی بھارتی اکاؤنٹس کی جانب سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جارہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارت اور چین کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، تاہم اس ویڈیو کی صداقت، مقام اور تاریخ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
دوسری جانب شتروجیت کپور کے اعتراف کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”چین کے ساتھ سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مکمل حقیقت عوام کو نہیں بتائی جا رہی، حکومت کو چاہیے کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے کی تفصیلات بتائے اور بحث کرائے تاکہ ایک مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔“
انہوں نے مودی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ” حکومت کچھ بتاتی ہی نہیں ہے، پھر ہمیں مختلف ذرائع سے بات پتا چل جاتی ہے جو کہ بہت شرمندگی کی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ”چین ہمارا پڑوسی ہے اور ہمارے اس کے ساتھ اچھے تعلقات ضرور ہونے چاہییں لیکن یہ تعلقات برابری اور باہمی عزت کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔“
واضح رہے کہ اروناچل پردیش بھارت کی شمال مشرقی ریاست ہے، تاہم چین اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتے ہوئے زینان کے نام سے پکارتا ہے۔
تقریباً 83 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اروناچل پردیش کی آبادی تقریباً 16 لاکھ ہے جبکہ اس کی چین کے ساتھ 1129 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔
THE PUBLIC POST