کراچی (پبلک پوسٹ )
ضلع کورنگی میں خودساختہ صحافتی تنظیموں کے سالانہ الیکشن کے دوران حکومتی ووٹ بکس اور سیلز کا استعمال
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے شفاف انتخابات پر بھی سوالیہ نشان اٹھانے لگا
۔خودساختہ صحافتی تنظیموں کے دو دھڑوں نے ووٹ کاسٹ کرنے کے دوران باقاعدہ سرکاری ووٹ بکس کی تصاویریں بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی تاہم ابھی تک حکومتی سطح پر کو نوٹس نہیں لیا گیا۔واضح رہے کہ امروز ضلع کورنگی میں خود ساختہ کورنگی پرس کلب میں پہلے بار سالانہ الیکشن منعقد کئے گئے تھے ۔جس کی باقاعدہ مختلف سوشل میڈیا گروپوں میں ووٹ کاسٹ کرنے کے دوران تصاویری جھلکیاں بھی وائرل کی گئی ۔خود ساختہ صحافتی تنظیموں کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے شفاف انتخابات کے بلد و بونگ دعویٰ کا پول کھول دیا ۔جبکہ خودساختہ صحافتی تنظیموں نے سالانہ الیکشن کے دوران حکومتی سطح پر استعمال ہونیوالے سرکاری ووٹ بکس کا ناصرف غیر قانونی طور پر استعمال کیا بلکہ ووٹ بکس کو سیل کرنے والی سرکاری پرنٹ زد سیلز بھی استعمال کی گئی ہیں ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلدیاتی الیکشن یا جنرل الیکشن کی گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کے دوران استعمال کی جانے والی تمام تر اشیاء الیکشن کمیشن کے زمہ داروں کی نگرانی میں متعلقہ محکمے میں جمع کی جاتی ہیں ۔ضلع کورنگی میں خود ساختہ صحافتی تنظیموں کے سالانہ الیکشن کے دوران سرکاری ووٹ بکس اور سیلز کا کھلم کھلا استعمال الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شفاف انتخابات پر مزید کئی سوالیہ نشان کو جنم لینے لگا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟