عمران خان کا حکم تھا تو میں نے فوری استعفی دے دیا، استعفی اسپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کردیا،جنید اکبر
ویب ڈیسک پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر نے پارلیمانی عہدے سے استعفی دے دیا۔
جنید اکبر نے استعفی دینے کی تصدیق بھی کر دی، جنید اکبر نے استعفی اسپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کیا ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ میں نے صرف پی اے سی سے نہیں بلکہ انرجی کمیٹی سے بھی استعفی دیا ہے، عمران خان کا حکم تھا تو میں نے فوری استعفی دے دیا۔
قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں کہا تھا کہ بیرسٹر گوہر نے میرے استعفی کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بتایا کہ میں صوبائی صدر کے عہدے سے استعفی دینا چاہتا ہون، کمیٹی سے نہیں، حالانکہ میں پبلک اکاوئنٹس کمیٹی اور صوبائی صدر کے دونوں عہدوں سے استعفی دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا استعفی بیرسٹر گوہر کو واٹس ایپ کیا تھا، لیکن بیرسٹر گوہر نے ایسا نہیں کیا جس کا مجھے افسوس ہے، میں پی ٹی آئی میں آپ کی طرح خانہ بدوش بن کر نہیں آیا، میں پی ٹی آئی میں آپ سے پہلے کا ہوں، پی ٹی ائی میں لوگ جب تک غلط کو غلط نہیں کہتے، اس وقت تک ہماری مشکلات کم نہیں ہوں گی۔
جنید اکبر نے کہا کہ اگر ہماری حکومت یا کمیٹیوں سے بانی کو فائدہ نہیں تو اس کا کیا فائدہ؟ چاہے ہم اسمبلی میں ہوں یا صوبائی حکومت ہماری ہو اگر اس کا فائدہ نہیں تو حکومت نہیں رکھنی چاہیے۔
جنید اکبر سے سوال کیا گیا کہ کیا علی امین گنڈا پور کو اپنی حکومت سے استعفی دے دینا چاہیے، اس پر جنید اکبر نے جواب دیا کہ ہر وہ حکومت یا عہدہ جس کا بانی پی ٹی آئی کو فائدہ نہیں، اسے نہیں رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کو حق ہے کہ وہ میری کارکردگی کو جانچے مگر باقیوں کو بھی جانچے، میری کارکردگی کو پہلے سے موجود لوگوں کی کارکردگی کے ساتھ جانچنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ کسی کو نواز سکوں، میں نے چار مہینے پہلے توشہ خانہ کا ریکارڈ منگوایا تھا اور اس کا معاملہ اٹھایا تھا، جو لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں ان سے پوچھیں وہ خود کتنا کمیٹیوں میں آتے ہیں۔