کراچی (پبلک پوسٹ)
جے ایس بینک پر ایف آئی اے کا چھاپہ، حوالہ ہنڈی نیٹ ورک بے نقاب، 3 گرفتار، تحقیقات میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنیاں شامل تفتیش
( رپورٹ : عمران خان ) ایف آئی اے کی کارروائی میںجے ایس بینک زمزمہ برانچ سے حوالہ ہنڈی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا، ایف آئی اے کا چھاپہ بڑے مالیاتی اسکینڈل کی کڑی بن گیا۔ بینک پر چھاپے سے میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنیوں تک پہنچنے والا اربوں روپے کا مشکوک مالیاتی نیٹ ورک سامنے آگیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے پوش علاقے زمزمہ میں ایک نجی بینک کی برانچ پر ہونے والا بظاہر معمول کا چھاپہ ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کی کڑی بن گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کمرشل بینکنگ سرکل کی کارروائی کے دوران حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کے کاروبار میں ملوث گروہ کے مرکزی کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ تحقیقات کا دائرہ اب میڈیا اور اشتہاری کمپنیوں تک بھی پھیل گیا ہے۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر زمزمہ میں قائم نجی بینک کی برانچ پر اچانک چھاپہ مارا جہاں سے برانچ مینیجر نعمان رؤف سمیت فرمان سومرو اور بختاور نامی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 15 ہزار امریکی ڈالر اور تقریباً 4 لاکھ 85 ہزار روپے برآمد ہوئے جبکہ موبائل فونز سے غیر قانونی کرنسی لین دین اور حوالہ ہنڈی کے اہم ڈیجیٹل شواہد بھی حاصل کیے گئے۔چھاپے سے بڑے نیٹ ورک کا سراغابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ ذرائع کے مطابق برانچ مینیجر کے موبائل فون سے ملنے والے ڈیجیٹل ریکارڈ نے تفتیش کا رخ اچانک ایک بڑے مالیاتی نیٹ ورک کی جانب موڑ دیا جس میں مختلف کمپنیوں اور اداروں کے درمیان مشکوک مالی لین دین کے شواہد سامنے آئے۔تحقیقاتی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے کروڑوں روپے کی رقوم غیر قانونی حوالہ ہنڈی چینلز کے ذریعے پاکستان منتقل کی گئیں۔ ان رقوم کو بعد ازاں مختلف کمپنیوں اور اداروں میں تقسیم کیا جاتا رہا، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کے ایک منظم نظام کا حصہ ہو سکتا ہے۔میڈیا سیکٹر تک تحقیقات کا دائرہایف آئی اے ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران ایک نجی ٹی وی چینل کے کمپنی سیکریٹری محسن نعیم کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی کے ذریعے کروڑوں روپے کی اشتہاری ڈیلز اور بیرون ملک معاہدوں کے پس منظر میں حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقم کی منتقلی کے شواہد ملے ہیں۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایک اشتہاری معاہدے کے دوران تقریباً ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے لین دین میں سے تقریباً ایک کروڑ درہم حوالہ ہنڈی کے ذریعے منتقل کیے گئے، جو بعد میں پاکستان میں مختلف چینلز اور کمپنیوں کو ادا کیے گئے۔ڈیجیٹل شواہد اور بین الاقوامی رابطےایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان بین الاقوامی سم کارڈز اور بیرون ملک رجسٹرڈ فون نمبرز استعمال کرتے تھے تاکہ ان کے رابطوں کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ تفتیشی ٹیم نے موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کو فارنزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ یہ نیٹ ورک کئی سالوں سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہا تھا اور سامنے آنے والا حصہ ممکنہ طور پر اس بڑے مالیاتی نظام کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ذرائع کے مطا بق اس پورے معاملے کے بعد مالیاتی حلقوں میں اسٹیٹ بینک کے مانیٹرنگ نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بینکاری ماہرین کے مطابق اگر بینکوں کی موثر نگرانی اور آڈٹ کا نظام فعال ہوتا تو ایسے بڑے پیمانے پر غیر قانونی کرنسی لین دین کا نیٹ ورک اتنے عرصے تک سرگرم نہ رہتا۔ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی جاری ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں اس کیس میں مزید بڑے انکشافات متوقع ہیں اور کئی اہم شخصیات بھی تحقیقات کی زد میں آ سکتی ہیں۔
THE PUBLIC POST