کراچی (پبلک پوسٹ )
سانحۂ گل پلازا کے محرکات جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے گل پلازا کا دورہ کیا، اس موقع پر ڈی سی ساؤتھ، ایس ایس پی سٹی، کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام نے بریفنگ دی۔
جوڈیشل کمیشن نے حکام سے پوچھا کہ جب آگ لگی اس وقت گل پلازا کے کتنے دروازے کھلے تھے؟ حکام نے بتایا کہ گل پلازا کے کل 16 دروازے تھے، جب آگ لگی اس وقت 2 سے 3 گیٹ کھلے تھے۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ چھت پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ حکام نے بتایا کہ عمارت مخدوش ہے، سیڑھیاں گر چکی ہیں، اوپر کی منزلوں تک رسائی ممکن نہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ جس دکان سے آگ لگی اس کی نشاندہی کی جائے۔
جوڈیشل کمیشن کے حکام نے کمیشن کو سب سے پہلے عمارت کے فرنٹ سائیڈ اور اندرونی حصوں کا معائنہ کروایا، موبائل ٹارچ جلا کر حکام نے عمارت کے گراؤنڈ فلور کے اندرونی حصوں کا دورہ کروایا۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ جس مقام سے بڑی تعداد میں باقیات ملی تھیں وہ کہاں ہے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ گل پلازا میں موجود افراد کو کس راستے سے باہر نکالا گیا؟ ملبہ کس چیز کا ہے؟ کیا یہ ملبہ توڑ پھوڑ کا نتیجہ ہے؟
حکام نے کہا کہ ملبہ آتشزدگی کے نتیجے میں گرا، ہم نے کسی چیز کو نہیں چھیڑا۔
THE PUBLIC POST