کسٹمز نے معروف بین الاقوامی کمپنی الیکٹرانک ٹی سی ایل کے درجنوں ٹی پی کنٹینرز کراچی پورٹ پر روک لئے

کراچی (رپورٹ: عمران خان) کسٹمز کلیئرنس کے بعد بھی معروف الیکٹرانک کمپنی ٹی سی ایل سمیت 100 سے زائد کنسائنمنٹس روکے جانے کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا، درآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصانات اور سپلائی چین میں شدید خلل کا سامنا ہے۔


ذرائع کے مطابق ٹی پی جمع کرانے اور سیس ادائیگی کے فوراً بعد مزید تین کنسائنمنٹس، جن میں مجموعی طور پر نو کنٹینرز شامل ہیں، اسکیننگ افسر کو تفویض کیے گئے، تاہم یہ کنٹینرز بھی تاحال معائنے کے منتظر ہیں۔


آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے ایک سینئر نمائندے نے کہا کہ وہ قانونی معائنے کے مخالف نہیں، تاہم بلاجواز تمام کنسائنمنٹس کو روکنا ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اگر کسٹمز کے پاس کسی مخصوص کنسائنمنٹ کے حوالے سے انٹیلی جنس موجود ہو تو اسی کو روکا جائے، مگر مجموعی طور پر تجارتی سرگرمیوں کو معطل کرنا درست نہیں۔


نمائندے کا کہنا تھا کہ کنٹینرز کی بلاوجہ تاخیر کے باعث درآمد کنندگان کو ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کی مد میں بھاری رقوم ادا کرنا پڑ رہی ہیں جبکہ تاخیر مسلسل بڑھ رہی ہے۔


درآمد کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کنسائنمنٹس کو معائنے کے لیے روکا جاتا ہے تو یہ عمل 24 گھنٹوں کے اندر مکمل کیا جائے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں کنٹینرز کئی کئی دن تک بغیر کسی شیڈول کے ٹرمینلز پر کھڑے رہتے ہیں اور اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔


تجارتی حلقوں کے لیے سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی کنسائنمنٹس کو “آؤٹ آف چارج” اسٹیٹس جاری کیے جانے کے باوجود بھی عملی طور پر ٹرمینلز سے ریلیز نہیں کیا جا رہا، جس سے کسٹمز نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کراچی اور لاہور کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ملک گیر سطح پر شدت اختیار کر رہا ہے۔


متاثرہ کمپنی ٹی سی ایل انڈسٹریز نے حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے کر معائنے کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے اور یا تو کنسائنمنٹس کو فوری ریلیز کیا جائے یا معائنے کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ مزید مالی نقصانات اور آپریشنل خلل سے بچا جا سکے۔


خبر فائل ہونے تک کلکٹر کسٹمز کے دفتر کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا جبکہ کنٹینرز بدستور ٹرمینلز پر کھڑے ہیں اور ڈیمرج کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Check Also

بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کردی گئی

بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کردی گئی۔ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *