چھالیہ کی درآمد کے دروازے سخت شرائط کے ساتھ کھل گئے، ڈی پی پی کے کردار پر سخت نگرانی کی ضرورت بڑھ گئی

کراچی (رپورٹ: عمران خان) محکمہ کسٹمز نے سوئٹ سپاری کمپنیوں کے لئے چھالیہ کی درآمد کے دروازے سخت شرائط کے ساتھ کھول دیئے ہیں۔

چھالیہ درآمد کرنے والوں نے پلانٹ اینڈ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران سے رابطے تیز کر دیئے ہیں تاکہ پہلے پہلے سیٹنگ بناکر کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور این او سی حاصل کی جاسکیں۔

ان میں ماضی میں کسٹمز کے مصر صحت چھالیہ کی اسمگلنگ، مس ڈکلیئریشن کے کیسوں اور تحقیقات میں نامزد رہنے والے سوئٹ سپاری فیکٹری مالکان، مخصوص کلیئرنگ ایجنٹ اور پلانٹ اینڈ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ایجنٹ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت پلانٹ اینڈ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز کے ہی ایک افسر یاسین مرتضیٰ ہیں۔


تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے اسمگلنگ کی روک تھام اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سپاری (بیٹل نٹ) کی درآمد پر سخت اور جامع ضوابط نافذ کر دیے ہیں، جس سے مارکیٹ میں استحکام اور قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔


زرائع کے مطابق اس وقت معروف سوئٹ سپاری کمپنیاں جو اسمگلنگ کے بڑے اسکینڈل میں ایف آئی اے کیس میں نامزد رہی ہیں جن میں تارا سوئٹ سپاری، بمبئی سوئٹ سپاری، سنی سوئٹ سپاری، ٹیسٹی سوئٹ سپاری، رتنا، میٹرو سوئٹ سپاری اور دیگر شامل ہیں

انہوں نے فی پڑیا چھالیہ کی قیمت 15 روپے تک کردی ہے جبکہ یہ چھالیہ دستیاب نہیں ہے۔ اس کے بدلے انہی کمپنیوں کے بعض عناصر نے ٹیکس بچانے کے لئے اسمگلنگ کی چھالیہ سے عندلیب، بلیک گولڈ اور دیگر برانڈ بنا کر 10 روپے فی پڑیا فروخت کرنی شروع کردی ہے اور یومیہ کروڑوں روپے کا منافع کمایا جا رہا ہے۔


اس ضمن میں ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے 16 مارچ 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کے تحت پری شپمنٹ انسپیکشن، کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق، لازمی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور کلیئرنس کے لیے پاکستان سنگل ونڈو کا استعمال یقینی بنایا گیا ہے۔


نئے قواعد کے مطابق سپاری صرف ان ایکسپورٹرز سے درآمد کی جا سکے گی جو برآمد کرنے والے ملک کی نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں۔ ہر کنسائنمنٹ کے ساتھ انٹرٹیک یا بیورو ویریٹاس جیسے منظور شدہ اداروں کے ڈیجیٹل تصدیق شدہ سرٹیفکیٹس بھی لازمی ہوں گے۔


شفافیت بڑھانے کے لیے پانچ فیصد کنسائنمنٹس کو ریڈ چینل کے ذریعے فزیکل انسپیکشن کے لیے بھیجا جائے گا جبکہ باقی تمام کنسائنمنٹس کی سخت دستاویزی جانچ پڑتال کی جائے گی۔


ذرائع کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی کشیدگی کے باعث اسمگلنگ کے راستے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سرحدوں پر مکمل کنٹرول قائم کیے ہوئے ہیں۔ ایک اہلکار کے مطابق “اس وقت اسمگلنگ تقریباً مکمل طور پر رک چکی ہے۔”


اسمگلنگ رکنے کے بعد مارکیٹ میں سپاری کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور پان میں استعمال ہونے والی سپاری کی قیمت 4 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی درآمدی چینلز فعال ہونے سے قیمتیں دوبارہ کم ہو جائیں گی۔ ایک اسٹیک ہولڈر کے مطابق “پہلے یہی سپاری 1400 روپے فی کلو میں دستیاب تھی، اب نئے نظام سے قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔”


یہ اقدام صحت عامہ کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ماضی میں اسمگل شدہ سپاری، جو اکثر گٹکے کی تیاری میں استعمال ہوتی تھی، غیر معیاری اور مضر صحت ہوتی تھی۔ نئے ضوابط کے تحت صرف معیاری اور لیبارٹری سے تصدیق شدہ مصنوعات ہی مارکیٹ میں داخل ہو سکیں گی۔


حکام کے مطابق سندھ اور بلوچستان سپاری کے بڑے صارفین ہیں اور اگرچہ درآمد میں زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا زر مبادلہ کا بوجھ کم ہے کیونکہ اس کی قیمت کم ہے جبکہ ڈیوٹی اور ٹیکس زیادہ ہیں یوں اس کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن کہیں زیادہ ہے، جس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچتا ہے۔

Check Also

بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کردی گئی

بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کردی گئی۔ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *