اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ ہوگی اور ٹیسٹ نہ کرانے والے ملازمین کی تنخواہ روک دی جائے گی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا ہیپا ٹائٹس کا ٹیسٹ بھی کروایا گیا، جو کہ منفی آیا۔ انہوں نے وفاقی وزارت صحت کے تمام ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ لازمی قرار دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ جس ملازم کا ٹیسٹ نہیں ہوگا، اس کی تنخواہ روک لی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں اسکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس بنائے گئے ہیں، جبکہ پرائیویٹ اسپتالوں میں جہاں بھی اسکریننگ کی جائے گی، انہیں کٹس اور گیجٹس دیے جائیں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پورے پاکستان میں اسکریننگ کی جائے گی۔ تمام وزارتوں کو مراسلہ بھیجا جارہا ہے ۔ وزرا سمیت تمام ملازمین کے ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں گے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کے مریض ہیں۔ یہ خطرناک بیماری ہے جس کا دیر سے پتا چلتا ہے اور بیماری لیور کینسر کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پروگرام کے تحت 68 ہزار کی دوا مفت فراہم کی جائے گی۔ گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں اسکریننگ کی جائے گی، اسی طرح ڈی پورٹ ہوکر آنے والے افراد کی اسکریننگ بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 3 ماہ تک تمام فلائٹس کو بھی اسکریننگ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ ہر پاکستانی کو اسکریننگ کروانا ہوگی۔ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے گیجٹس فراہم کیے ہیں، جبکہ مردم شماری والا سافٹ ویئر لیا گیا ہے، جسے نادرا کے ریکارڈ کے ساتھ کنیکٹ کیا گیا ہے۔ ہر شناختی کارڈ کے ساتھ اسکریننگ لازمی قرار دی جائے گی، جبکہ بیرون ملک جانے سے قبل بھی اسکریننگ لازمی قرار دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی خون کے ذریعے منتقل ہوجاتا ہے۔ اس وقت ایک کروڑ 10 لاکھ لوگ ہیپاٹائٹس سی پازیٹو ہیں۔ عوام مفت سہولت سے فائدہ اٹھائیں ۔ 12 سال سے بڑے افراد کی اسکریننگ لازمی ہے۔ اگر آپ اسکریننگ نہیں کرواتے تو آپ گناہ گار ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب سے ہمیں ڈیٹا فراہم نہیں کیا جارہا، تاہم ہمارا رابطہ ہے ، وہ ڈیٹا شیئر کردیں گے۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے خود میٹنگ کرنے جارہے ہیں۔
THE PUBLIC POST