سندھ پولیس کے فارنزک یونٹ میں اسلحے اور گولیوں کے خول کا جدید سائنٹیفک طریقے سے تجزیہ کرنے والی مشین آئی بی آئی ایس 3 سال سے بند ہے۔
میر رضا قتل سمیت سیکڑوں کیسز میں اسلحے اور گولیوں کے خول کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔
میر رضا کیس میں مینوئل طریقے سے صرف یہ رپورٹ تیار کی گئی کہ ملنے والا خول 30 بور پستول کی گولی کا ہے۔
انٹیگریٹیٹڈ بیلیسٹک آئی ڈینٹیفیکشن سسٹم یا آئی بی آئی ایس مشین کسی بھی اسلحے سے فائر کی گئی گولیوں اور خولوں پر موجود خوردبینی نشانات کی ڈیجیٹل تصاویر محفوظ کرتی ہے اور پھر ہر تصویر سے ایک الیکٹرانک سگنیچر اخذ کرتی ہے۔
ان سگنیچرز کا آئی بی آئی ایس نیٹ ورک کے ذریعے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ طور پر ایک جیسے نشانات رکھنے والی گولیوں اور خولوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
اس کے بعد حاصل شدہ نتائج کو ترجیحی بنیاد پر ترتیب دے کر فارنزک ماہر کے مشاہدے کے لیے پیش کیا جاتا ہے، جو بعد میں ان مماثلتوں کی حتمی تصدیق کرتا ہے۔
پولیس اور تفتیش کاروں کے لیے آئی بی آئی ایس ایسے نمونوں اور رجحانات کی نشاندہی میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے جو جرائم کی تحقیقات میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
یہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ سندھ پولیس کا یہ سسٹم گزشتہ 3 سال سے بند ہے، اس کی بندش کی بنیادی وجہ متعلقہ کمپنی کو عدم ادائیگی اور نتیجے میں سسٹم کی تجدید نہ ہونا ہے۔
گولیوں کے خول کا تجزیہ کرنے والی آئی بی آئی ایس مشین غیر ملکی کمپنی کی ہے جو اپنی ٹیکنالوجی کسی کو نہیں دیتی بلکہ تیار مشین فروخت کرتی ہے، اس کے سافٹ ویئر کو کاپی بھی نہیں کیا جا سکتا۔
2009ء کے آخر میں کروڑوں روپے لگا کر جب فارنزک یونٹ تعمیر کیا جا رہا تھا اور یہ قیمتی اور حساس مشینری خریدی جارہی تھی تو اس وقت یہ خیال کیوں نہ آیا کہ اس کی سالانہ فیس بہت زیادہ ہے۔
کچھ سال پہلے تو سندھ پولیس تمام ادائیگیاں جیسے تیسے کر رہی تھی، مگر باقاعدگی سے ادائیگی کے لیے سندھ پولیس کا فارن کرنسی اکاؤنٹ ہونا لازمی تھا جو آج کی تاریخ تک تو نہیں بن سکا۔
مینوئل طریقے سے ادائیگی کا طریقہ کار اتنا طویل ہے کہ کاغذی کارروائی کرتے کرتے ادائیگی کا وقت ہی نکل جاتا ہے اور پریکٹس نئے سرے سے شروع ہو جاتی ہے۔
اس حوالے سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کے فارنزک یونٹ میں رکھی آئی بی آئی ایس مشین کی سالانہ فیس بہت زیادہ ہے اس لیے وہ بند ہے اور اب سندھ پولیس کے آئی ٹی ماہرین آئی بی آئی ایس کی ٹکر کا سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس سے بھی اچھا نتیجہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
THE PUBLIC POST