لاہور:
کاہنہ ڈیفنس روڈ پر واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار افراد نے رات کی تاریکی میں آوارہ کتوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں جن میں مسلح افراد کو کتوں پر فائرنگ کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لاہور ہائیکورٹ آوارہ کتوں کو ہلاک کرنے پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہے اور عدالت نے پنجاب حکومت کو ٹی این وی آر (ٹَریپ، نیوٹر، ویکسینیٹ، ریلیز) کی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد آوارہ کتوں کی آبادی کو انسانی بنیادوں پر قابو میں لانا ہے، نہ کہ انہیں مار دینا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت چند موٹر سائیکل سوار آئے، کتوں کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کرکے فرار ہوگئے۔ شہریوں نے بتایا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، شہر کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جہاں پر آوارہ کتوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔
https://cdn.iframe.ly/api/iframe?url=https%3A%2F%2Fcdn.jwplayer.com%2Fplayers%2FQlrRnvBr-jBGrqoj9.html&key=73b4a3e6895a3640b0439dc45f68e4f8
شہریوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے حملے خاص طور پر بچوں پر، ایک مسلسل خطرہ بن چکے ہیں۔ لوگ خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور کئی علاقوں میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ تاہم شہری یہ بھی شکوہ کرتے ہیں کہ حکومتی ادارے، خصوصاً میونسپل کارپوریشن یا لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ، اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔
لاہور شہر میں اس وقت آوارہ کتوں کی تعداد کا کوئی مستند سرکاری تخمینہ موجود نہیں، تاہم مختلف شہری تنظیموں اور ماحولیاتی اداروں کے مطابق صرف لاہور میں تقریباً 30 سے 35 ہزار آوارہ کتے موجود ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد نہ تو ویکسینیٹڈ ہے اور نہ ہی نیوٹر کی گئی ہے، جس سے خطرہ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی این وی آر پر عمل نہ کیا گیا تو نہ صرف آوارہ کتوں کا مسئلہ شدت اختیار کرے گا بلکہ شہری اپنی مدد آپ کے تحت سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے معاشرتی اور قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔