بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیر شاہ خان کو بھی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں بانی پی ٹی آئی کے بھانجے شیر شاہ کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست ریمانڈ پر سماعت کرنے والے جج منظر علی گل نے میڈیا نمائندگان کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔
جج منظر علی گل نے کہا کہ میڈیا کا کوئی بھی نمائندہ کمرہ عدالت میں نہیں ہو گا، سیکیورٹی نے تمام میڈیا نمائندگان کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔
جج منظر علی گل نے کہا کہ آئندہ میری عدالت میں کوئی میڈیا نمائندہ موبائل لے کر نہ آئے، میڈیا نمائندگان آنا چاہیں تو کاپی پینسل لے کر آئیں۔
بعد ازاں عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ملزم شیر شاہ کے ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی۔
پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ ملزم جائے وقوعہ پر موجود تھا، موقع پر اسلحہ کا استعمال کیا گیا، ویڈیو میں بھی ملزم کی موجودگی پائی گئی، ملزم کے سوشل میڈیا اکاونٹس ریکور کرنے ہیں، ملزم کو تیس روز کے جسمانی ریمانڈ پر حوالہ پولیس کیا جائے۔
وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملزم کو ستائیس ماہ بعد گرفتار کیا گیا، گرفتاری غیر قانونی ہے، ملزم کل اپنے بھائی کے ساتھ اسی عدالت میں پیش ہوا، کل گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے بھانجے شیر شاہ کے جسمانی ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے ملزم کو پانچ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی تھی، ملزم کو تھانہ سرور روڈ کے جناح ہاوس حملہ کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز 9 مئی کے پرتشدد واقعات میں ملوث علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شاہ ریز عظیم کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ملزم کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی تاہم عدالت نے عمران خان کے بھانجے کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا تھا۔