اسرائیل کی یمن پر ہونے والی بمباری میں حوثیوں کے وزیراعظم احمد الرہوی متعدد وزرا کے ہمراہ جاں بحق ہوگئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثیوں نے تصدیق کی کہ دارالحکومت صنعا میں اسرائیلی فضائی کارروائی میں گروپ کے وزیراعظم جاں بحق ہوگئے ہیں۔
حوثیوں گروپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم احمد الرہوی کو متعدد وزرا کے ہمراہ جمعرات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
احمد الرہوی اگست 2024 سے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں وزیراعظم کے طور پر کام کر رہے تھے اور انہیں حکومت کے دیگر اراکین کے ساتھ اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ حکومت کی معمول کی ورکشاپ میں موجود تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور دیگر اراکین اپنی حکومت کے گزشتہ ایک برس کے اقدامات اور کارکردگی کے حوالے سے جائزہ لے رہے تھے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یمن کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم اعلان کرتے ہیں کہ تبدیلی اور تعمیر کی حکومت کے وزیراعطم احمد غالب الراہوی جمعرات کو اپنے ساتھی وزرا کے ہمراہ شہید ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعرات کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں حملہ کیا تھا جبکہ غزہ میں جاری جنگ خطے میں پھیل چکی ہے۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا تھا کہ جمعرات کو یمن کے شہر صنعا میں حوثیوں کی فوج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے جاتے رہے ہیں اور بحیرہ احمر میں مغربی ممالک کے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
حالیہ مہینوں میں یمن پر اسرائیل کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ حوثی مسلسل کہتے رہے ہیں کہ اسرائیل کے یمن پر ہونے والے حملوں سے حوثیوں کی فلسطینیوں کے حق میں فوجی کارروائیاں نہیں رکیں گی۔
وزیراعظم احمد الراہوی کی شہادت سے قبل اسرائیل کے حملے میں صنعا میں 10 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد شہری زخمی ہوگئے تھے، جس کے بارے میں اسرائیل نے بتایا تھا کہ یمن کے ایوان صدر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یمن میں حوثیوں اور مرکزی حکومت کے درمیان اختلافات کے بعد ملک دو حصوں میں تقسیم ہے اور یمن کا بڑا حصہ 2014 سے حوثیوں کے زیر کنٹرول ہے۔