کراچی اور حیدرآباد میں بتدریج چڑیا گھر ختم کر کےقدرتی ماحول میں نیشنل پارک بنائیں: سندھ ہائی کورٹ

سندھ ہائی کورٹ میں کراچی چڑیا گھر سے مادہ ریچھ رانو کی منتقلی کے کیس کی سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے انکشاف کیا کہ چڑیا گھر میں ویٹنری ڈاکٹر کا کمرہ اسٹور کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، ایکسرے مشین خراب ہے، آپریشن تھیٹر ناقابلِ استعمال ہے، جبکہ جانوروں کو بے ہوش کرنے یا خون کے نمونے لینے کا بھی کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی صحت اور بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں بتدریج چڑیا گھر ختم کر کے قدرتی ماحول میں نیشنل پارک بنائیں۔ اس طرح کا چڑیا گھر نہیں چل سکتا، چھوٹے چھوٹے پنجروں میں جانوروں کو قید رکھنا ظلم ہے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ آپ کا مقصد جانوروں کی فلاح ہونا چاہیے، نا کہ صرف ٹکٹ لگا کر تماشہ دکھانا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ کراچی چڑیا گھر میں ویک اینڈ کے علاوہ عوامی تماشا بند کیا جائے۔

Check Also

مفتاح اسماعیل کراچی کی فکر چھوڑیں، پہلے اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا حساب دیں، سعدیہ جاوید

کراچی: ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *