گھگھر پھاٹک سے مدرسے کے طالبعلم کا مبینہ اغواء،کچے کے ڈاکوؤں کی 50 لاکھ روپے تاوان کی طلب

گھگھر پھاٹک کے قریب واقع ایک مدرسے کے طالبعلم کو مبینہ طور پر کچے کے ڈاکوؤں نے اغواء کر لیا ہے۔

مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے ایس ایس پی ملیر کے دفتر میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار مفتی سید عبدالحق شاہ کے مطابق طالبعلم سلیم خان 20 نومبر کی صبح چھٹی لے کر اہلخانہ سے ملاقات کے لیے گاؤں روانہ ہوا تھا۔

درخواست کے مطابق 25 نومبر کو ایک نامعلوم واٹس ایپ نمبر سے سلیم خان کی آڈیو کال موصول ہوئی جس میں طالبعلم نے اطلاع دی کہ اسے کچے کے ڈاکوؤں نے اغواء کر لیا ہے اور وہ اسے تشدد کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

بعد ازاں 3 دسمبر کو دوبارہ واٹس ایپ کے ذریعے اس کی ہتھکڑی لگی تصویر بھی بھیجی گئی۔

مفتی سید عبدالحق شاہ کا کہنا ہے کہ مغوی کے خاندان کے کئی افراد دبئی میں مقیم ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق ڈاکوؤں نے طالبعلم کی رہائی کے عوض 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مدرسہ انتظامیہ اور اہلخانہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ طالبعلم کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان کے اغواء کے کیس پر کام جاری ہے، تاہم ابھی تک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ اسے کس مقام سے اغواء کیا

پولیس کے مطابق موبائل فون کی لوکیشنز، واٹس ایپ ڈیٹا اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ عینی شاہدین و قریبی افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے جائیں گے۔

حکام نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دیگر اداروں سے بھی مدد لی جائے گی تاکہ مغوی کو بازیاب کرایا جا سکے۔

Check Also

سابق کرکٹ لیجنڈز کا حکومتِ پاکستان کو خط، عمران خان کی صحت کی خبروں پر اظہارِ تشویش

دنیائے کرکٹ کے 14 نامور سابق کپتانوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *