شیر خوار بچے ہماری توقع سے کہیں زیادہ ذہین ہوتے ہیں:نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ صرف دو ماہ کے بچوں کے دماغ پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور وہ زندہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں۔

ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے محققین کی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف دو ماہ کے بچے بھی اپنے اردگرد کی چیزوں کو پہچاننے اور درجہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بچوں کے دماغ ابتدائی مہینوں میں ہی جاندار اور بےجان چیزوں میں فرق پہچان سکتے ہیں۔ اس مطالعے میں بچوں کے دماغ کی ایف ایم آر آئی تصاویر کا تجزیہ کیا گیا۔

آج سے پہلے سائنس دانوں کا یہ خیال تھا کہ دو ماہ کا بچہ بہت کم سمجھتا ہے، اس کا دماغ تقریباً خالی سلیٹ کی طرح ہوتا ہے، جو بس روشنی، آواز اور چھونے والی چیزوں کا ردعمل دیتا ہے، لیکن زیادہ پیچیدہ کام نہیں کر سکتا۔

لیکن اب یہ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ دراصل دو ماہ کی چھوٹی سی عمر میں ہی بچے کا دماغ بہت زیادہ ترقی یافتہ ہوتا ہے، اس کے دماغ میں الگ الگ حصے بلکل بڑوں کی طرح مختلف قسم کی چیزوں کو دیکھ کر مختلف طریقے سے روشن ہوتے ہیں۔

آئرلینڈ کی ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے سائنس دانوں کی تحقیق میں انہوں نے 130 سے زیادہ بچوں کے دماغ کی ایف ایم آر آئی تصاویر کا مطالعہ کیا۔

ایف ایم آر آئی ایک ایسی تکنیک ہے جس سے دماغ میں خون کے آکسیجن کی سطح میں تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ بتاتی ہے کہ دماغ مختلف چیزوں کو دیکھ کر کیسے ردعمل دیتا ہے۔

یہ مطالعہ نیچر نیورو سائنس نامی جریدے میں پیر کو شائع ہوا ہے اور اس سے بچوں کی ذہنی نشوونما کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ بھی کہ ذہنی صحت کے مسائل زندگی میں بعد میں کیسے پیدا ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دو ماہ کے بچوں کو جاگتے ہوئے دماغ کی سکیننگ کی گئی۔ بچوں کو ایک بین بیگ پر لٹایا گیا، ان کے کانوں پر شور روکنے والے ہیڈ فون لگائے گئے اور انہیں ایک درجن اقسام کی تصاویر دکھائی گئیں جو عام طور پر پہلے سال میں عام دیکھی جانے والی تصاویر تھیں۔

ان تصاویر میں بلیاں، پرندے، ربر کی بطخیں، شاپنگ ٹرالیاں اور درخت شامل تھے۔

تحقیق کی مرکزی محققہ کلائونا اوڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ جب آپ ایک بلی دیکھتے ہیں تو آپ کا دماغ ایک خاص طریقے سے متحرک ہوتا ہے جسے ایف ایم آر آئی مشین سے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور یہ بلی کا ایک خاص نشان ہے۔

پھر اگر آپ کو کوئی مختلف چیز دکھائی جائے جیسے ایک بے جان چیز مثلاً درخت تو دماغ کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا ہے۔ بالغ افراد میں یہ فرق بہت واضح اور مستقل ہوتا ہے لیکن بچوں میں یہ پہلے معلوم نہیں تھا۔ اسی لیے ہم نے بچوں میں یہ دیکھنے کی کوشش کی۔

تحقیق میں بہت سے بچوں کو نو ماہ کی عمر میں دوبارہ لایا گیا اور ان میں سے ساٹھ سے زیادہ کے اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے۔

نو ماہ کے بچوں میں دماغ زندہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق زیادہ شدت سے کر رہا تھا جیسا کہ دو ماہ کے بچوں میں تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ بچوں کے دماغ دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

ریسرچراوڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ بچے ہمارے خیال سے زیادہ جانتے ہیں اور ان کے دماغ دنیا کو بہت پیچیدگی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ صرف لیٹ کر انتظار نہیں کر رہے کہ کب چلیں گے یا بولیں گے بلکہ زندگی کے پہلے سال میں ان کی ذہنی نشوونما بہت تیزی سے ہو رہی ہوتی ہے، اوراب اس طریقے سے ہم اسے ناپ سکتے ہیں۔

کنگز کالج لندن کے پروفیسر گستاوو سُڈرے کے مطابق اس تحقیق کے نتائج مستقبل میں ذہنی صحت اور نیورو ڈویلپمنٹ سے متعلق بیماریوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

انہوں کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا کہ بچے اپنے دماغ میں یہ تصورات ہمارے خیال سے پہلے بنا رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اس کا اظہار اپنے رویے سے نہیں کر پاتے، یہی وجہ ہے کہ کئی ذہنی امراض کی تشخیص رویّوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اکثر ہم مسائل کی تشخیص رویے سے کرتے ہیں جبکہ ان کی اصل وجہ دماغ میں بہت پہلے سے موجود ہو سکتی ہے۔

یہ نئی تحقیق بچوں کے دماغی ارتقا کے بارے میں نہ صرف نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ ابتدائی عمر میں ذہنی نشوونما کو سمجھنے میں بےحد مددگار ہے۔

Check Also

سلطان محمد گولڈن نے 2نئے گنیز ورلڈ ریکارڈزقائم کر کے ملک کا نام روشن کر دیا

کوئٹہ: سلطان محمد گولڈن نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے کئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *