کراچی میں چھالیہ اسمگلنگ کا ریاستی تحفظ یافتہ سسٹم بے نقاب

ماہانہ 7 کروڑ کی وصولی، کسٹمز چوکیوں سے کلکٹریٹ تک حصے طے—عمر فاروق، عاصم نواز اور پرنس جمشید کلیم کے نام سامنے آ گئے

مواچھ گوٹھ اور ہمدرد چوکی سے شہر اور اندرون سندھ تک اسمگل شدہ چھالیہ کی بلا رکاوٹ ترسیل، “درج” گاڑیوں کو فری پاس

سوئٹ سپاری فیکٹریاں حب منتقل، عوام مہنگی پڑیا اور کینسر کے خطرے کی قیمت چکانے پر مجبور

کراچی( رپورٹ : عمران خان ) کراچی میں مضرِ صحت چھالیہ اور سوئٹ سپاری کی کھلے عام سپلائی محض اسمگلروں کی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا منظم، محفوظ اور ادارہ جاتی سرپرستی پر قائم سسٹم ہے جس کے اندرونی حقائق اب منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کے اندر ایسا نیٹ ورک سرگرم ہے جس کے تحت ہر ماہ تقریباً 7 کروڑ روپے جمع کر کے چوکیوں سے لے کر انفورسمنٹ ہیڈکوارٹرز اور بالآخر کلکٹریٹ دفاتر تک طے شدہ حصوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں چھالیہ اسمگلنگ اور اس کی شہر بھر میں سپلائی کے لیے ایک باقاعدہ “سیٹ اپ” تشکیل دیا گیا ہے، جو کسٹمز انفورسمنٹ کلکٹریٹ کراچی کے اے ایس او ہیڈکوارٹر میں تعینات بعض کرپٹ افسران کی سرپرستی اور سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں۔ انہی افسران کی پشت پناہی سے مضرِ صحت چھالیہ اور سوئٹ سپاری شہر کے مختلف علاقوں میں بلا خوف و خطر سپلائی کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر فاروق اور عاصم نواز نامی افسران مواچھ گوٹھ کسٹمز چوکی اور ہمدرد کسٹمز چوکی سے گزرنے والی ہر چھالیہ بردار گاڑی سے رقوم جمع کرنے کے ذمے دار ہیں۔ ان افسران کے اسمگلروں، ٹرانسپورٹرز اور سوئٹ سپاری بنانے والی کمپنیوں کے مالکان سے براہِ راست روابط ہیں۔

اس منظم نیٹ ورک کے تحت صرف وہی گاڑیاں شہر میں داخل یا خارج ہو سکتی ہیں جو کسٹمز کے اس غیر قانونی سسٹم میں “درج” ہوتی ہیں۔ ایسی گاڑیوں کو کسی قسم کی تلاشی یا روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جبکہ جو گاڑیاں اس فہرست میں شامل نہ ہوں، انہیں مختلف بہانوں سے روکا جاتا ہے یا بھاری رقوم کے لیے دباؤ میں لایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مواچھ گوٹھ چوکی کے ذریعے بلوچستان کے علاقے حب سے آنے والی چھالیہ کی گاڑیاں کراچی میں داخل ہوتی ہیں، جہاں سے یہ مال شہر کے مختلف گوداموں اور چھالیہ کے پانچ بڑے ڈیلرز تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسی طرح کراچی سے اندرونِ سندھ جانے والی چھالیہ کی ترسیل ہمدرد کسٹمز چوکی کے ذریعے کی جاتی ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ سسٹم اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی ایماندار افسر اسے بائی پاس کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ حالیہ دنوں میں اے ایس او انفورسمنٹ کے ایک افسر نے چھالیہ کی ایک گاڑی پکڑی، مگر کارروائی کو سراہنے کے بجائے اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ اس نے “سسٹم” کو بائی پاس کر دیا تھا۔

مزید انکشاف میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے اندر گٹکا، ماوا اور سوئٹ سپاری کی فیکٹریوں اور اڈوں تک چھالیہ پہنچانے والی گاڑیوں سے ماہانہ رقوم جمع کرنے کی ذمہ داری ایک اور کسٹمز پریونٹو افسر پرنس جمشید کلیم کے پاس ہے، جو شہر کے اندر سرگرم سپلائی نیٹ ورک کو کور فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے جمع ہونے والی رقوم بھی اسی طے شدہ فارمولے کے تحت تقسیم کی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہر چھالیہ بردار گاڑی سے وصول ہونے والی رقم کا 25 فیصد اس چوکی کے انچارج کو دیا جاتا ہے، جو پوری چوکی میں تعینات اہلکاروں میں تقسیم ہوتا ہے، جبکہ باقی رقم انفورسمنٹ افسران، ہیڈکوارٹر اور بالآخر کلکٹریٹ آفس تک پہنچتی ہے۔ ہر سطح پر حصہ مقرر ہونے کے باعث کوئی فریق کارروائی کی جرأت نہیں کرتا۔

کچھ عرصہ قبل تک کراچی میں سوئٹ سپاری کے تمام معروف برانڈز—جن میں تارا چھالیہ، ٹیسٹی، بمبئی، سنی، نگینہ، صنم، سفینہ، پیپسی گولڈ سمیت دیگر شامل ہیں—کی فیکٹریاں بھرپور طریقے سے کام کر رہی تھیں، جہاں یومیہ ہزاروں کلوگرام اسمگل شدہ مضرِ صحت چھالیہ استعمال ہوتا تھا۔ بعد ازاں جب کسٹمز میں سہولت کاری کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا اور ایف آئی اے میں مقدمات درج ہوئے تو یہ فیکٹریاں سیل کر دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق فیکٹری مالکان نے بعد میں کراچی اور دبئی میں بااثر شخصیات سے رابطے کیے اور بھاری رقوم ادا کرنے کے بعد انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی فیکٹریاں حب منتقل کر دیں۔ اس وقت تمام بڑی سوئٹ سپاری فیکٹریاں حب میں قائم کارخانوں میں اسمگل شدہ چھالیہ استعمال کر کے پیداوار کر رہی ہیں، جہاں سے تیار شدہ پڑیاں پیک ہو کر کراچی اور اندرون سندھ کے پانچ بڑے ہول سیل ڈیلرز تک پہنچائی جا رہی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ چھالیہ کی قیمت کم ہونے کے باوجود سوئٹ سپاری بنانے والوں نے منافع بڑھانے کے لیے فی پڑیا قیمت میں مسلسل اضافہ کر دیا ہے۔ جو سوئٹ سپاری چند سال قبل ایک روپے میں دستیاب تھی، وہ آج 10 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ فیکٹری مالکان کے مطابق یہ اضافہ دراصل اس بھتے کا بوجھ ہے جو اسمگلنگ، تیاری اور سپلائی کے دوران مختلف اداروں کے افسران کو دیا جاتا ہے، جس کی قیمت بالآخر عام شہری ادا کر رہے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اسمگل شدہ چھالیہ طویل سفر، نمی اور غیر معیاری ذخیرہ اندوزی کے باعث افلاٹاکسن سے شدید متاثر ہوتا ہے، جو منہ کے کینسر کا بڑا سبب ہے۔ کسٹمز کی حالیہ رپورٹوں اور انکوائریوں میں اس حوالے سے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔

اس معاملے پر مؤقف کے لیے جب کسٹمز اے ایس او پریونٹو سپرنٹنڈنٹ آفس سے رابطہ کیا گیا تو کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔ ذرائع کے بقول اگر یہ سسٹم اسی طرح چلتا رہا تو نقصان صرف قومی خزانے کا نہیں بلکہ ہزاروں شہریوں کی صحت اور زندگیاں بھی اس کی قیمت چکاتی رہیں گی۔

Check Also

سابق کرکٹ لیجنڈز کا حکومتِ پاکستان کو خط، عمران خان کی صحت کی خبروں پر اظہارِ تشویش

دنیائے کرکٹ کے 14 نامور سابق کپتانوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *