سوال: مسنون اعتکاف کے دوران طبعی یا شرعی حاجت کے بغیر باہر نکلنے سے بھی اعتکاف فاسد ہونے کا حکم بتایا جاتا ہے، اس حکم کی سنت سے کیا اصل اور دلیل ہے؟
جواب: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ جب اعتکاف کرتے تھے تو آپ ﷺ مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک حجرے میں کرتے تھے، چنانچہ میں حضور ﷺ کے بالوں میں کنگھی کرتی تھی، اور آپ ﷺ انسانی طبعی حاجت (قضائے حاجت) کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
رسول اللّٰہ ﷺ کا حجرۂ مبارکہ مسجد سے متصل تھا، آپ ﷺ کے سر مبارک پر زلفیں تھیں، جن میں تیل لگا ہوتا تھا، حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا آپ ﷺ کا سر مبارک دھو کر کنگھی کرتی تھیں، اس ضرورت کے باوجود آپ مسجد سے ایک قدم باہر نہیں نکالتے تھے، خود مسجد میں رہتے ہوئے صرف سر مبارک حجرے میں کر دیتے تھے، اور قضائے حاجت کی ضرورت کے علاوہ گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔
سنن ابی داؤد میں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ سنّت یہ ہے کہ معتکف نہ بیمار کی عیادت کرے، نہ جنازہ میں شرکت کرے، نہ بیوی کو شہوت سے چھوئے، نہ اس سے ملاپ کرے اور شدید ضروری تقاضوں کے علاوہ اپنی ضرورت کے لیے بھی نہ نکلے۔
کتبِ ستہ میں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بشری تقاضوں کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے اپنے اعتکاف کی جگہ سے نہیں نکلتے تھے۔
یہ اور اس طرح کی دیگر روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ معتکف دورانِ اعتکاف طبعی یا شرعی حاجت کے بغیر نہیں نکلے گا، اگر نکلا تو اس کا سنّت اور واجب اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
مسنون اعتکاف فاسد ہونے کی صورت میں بطورِ قضا ایک دن ایک رات کا اعتکاف کرنا ہوگا، جس میں روزہ بھی ضروری ہوگا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ قضا اعتکاف کی نیت کرتے ہوئے مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہوکر اگلے دن مغرب کے بعد تک مسجد میں رہے، اور روزہ بھی رکھے۔ کسی کا مسنون اعتکاف فاسد ہو جائے اور رمضان المبارک کے دن باقی ہوں، تو اسی رمضان میں قضا کرلینا چاہیے۔(نصب الرايۃ، کتاب الصوم، باب الاعتکاف 2/ 486 ، 491ط: مؤسسۃ الريان)
THE PUBLIC POST